مسیح اور مہدیؑ — Page 33
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں پہلی بحث 33 عکس حوالہ نمبر : 7 معراج نبوی میں حضرت عیسی لی دیگر وفات یافتہ انبیاء کے ساتھ روح کی حقیقیت کہ روح بغیر جسم کے پانی نہیں جاتی۔اسی طرح زندگی بغیر روح کے پانی نہیں جاتی اور یہ کہ ان دونوں درج وحیات میں کوئی بھی ایک سرے کے بغیر پایا نہیں جاتا۔جیسا کہ درو اور اس کا علم کیونکہ دو چیزیں ہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں اور اس معنی کے لحاظ سے بھی روح عرض ہے۔جیسا کہ زندگی عوض ہے۔پھر سب مشائخ اور بہت سے اہل سنت و جماعت کی یہ رائے ہے۔کہ روح ایک جوہر ہے جو قائم بذات خود ہے۔نہ وہ و صحت کہ جب تک وہ جسم کے ساتھ پیوست ہے عادت جاریہ کے مطابق اللہ تعالیٰ اس قالب میں زندگی پیدا کر دیتا ہے اور آدمی کی زندگی صفت ہے اور وہ اسی سے زندہ ہے۔لیکن اس کے جسم میں روح امانت کے طور پر رکھی گئی ہے۔اور یہ سبھی روا ہے کہ وہ روح آدمی سے جدا ہو جائے اور وہ زندگی کی وجہ سے زندہ رہے۔جیسا کہ نواب کی حالت میں روح نکل جاتی ہے اور حیات باقی رہتی ہے۔لیکن یہ روا نہیں کہ اس روج کے چلے جانے کی حالت میں علم و عقل باقی رہے اور انسان زندوں کی طرح ان سے تمام دی کے سکے اس ہے کہ پیغمبر پہلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شہیدوں کی روحیں پرندوں کے پوٹوں میں ہو نگی۔اس لئے لا محالہ یہ مانتا پڑتا ہے کہ روح با یک جو ہر قائم مینیات خود ہو۔اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ارواح بہت سے شکر ہیں جمع کئے ہوئے۔اس لئے لا محالہ وہ لشکر باقی ہوئی گے۔حالانکہ عرض اپنے محل کے بغیر باقی نہیں رہتا۔کیونکہ وہ قائم بالذات نہیں ہوتا۔پس روح ایک حسیم لطیف ہے جو فرمان الہی سے جسم میں آئی اور اسی کے فرمان سے چلی جاتی ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں نے شب معراج میں آدم صفی اللہ و یوسف صدیق الله و موسیٰ کلیم الله و بارون کلیم الله و مینی روح الله اور ابراہیم خلیل الله سر خلیل الله على نبينا نا وعليهم الصلوة والسلام کو آسمانوں میں دیکھا تو لا محالہ وہ ان انبیاء کے ارواح ہی ہوئی گے۔اور اگر روج عرض ہوتی تو مرد بذات خود قائم نہ ہوتی۔اور ہستی کی حالت میں نبی صل اللہ علیہ وسلم اس کو نہ دیکھ سکتے۔اس لئے کہ اس کے وجود کے لئے کوئی عمل چاہیئے تاکہ وہ سورج اس کو