مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 492 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 492

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 492 عکس حوالہ نمبر: 169 رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام سوم 40 مقام پر منتقل ہوتے رہے۔اس لیے منصور ان کو گرفتار نہ کر سکا۔۱۴۴ھ میں جب بنو ہاشم نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تو منصور نے کتی سے ان کی تلاش شروع کر دی اور بنو ہاشم کے اشخاص کو بلا کر ان سے ان کا پتہ پوچھا، مگر کسی نے بیچ جواب نہ دیا۔منصور نے نفس زکیہ کے والد عبد اللہ پر تختی کی کہ وہ نفس زکیہ اور ان کے بھائی کو حاضر کریں۔انہوں نے لاعلمی ظاہر کی اور کہا اگر وہ میرے پاس ہوتے جب بھی قتل کے لیے تمہارے حوالہ نہ کرتا۔منصور نے ہر طرح کی سختیاں کیں، مگر کسی طرح پتہ نہ چلا۔تلاش و جستجو کا سلسلہ جاری تھا کہ علویوں نے مکہ میں جمع ہو کر منصور کو خفیہ قتل کر دینے کی سازش کی۔عبد اللہ بن محمد نے اس کام کا بیڑا اٹھایا، لیکن نفس زکیہ نے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم اس وقت تک اس کو دھوکے سے قتل نہ کریں گئے جب تک اس کو خلافت سے دست برداری کا پیام نہ دے لیں۔اتفاق سے منصور کا ایک فوجی افسر خالد بن حسان اس مشورہ کے وقت پہنچ گیا تھا۔اس نے منصور کو اس کی اطلاع دے دی۔منصور نے زیاد بن عبید اللہ کو نفس زکیہ کی گرفتاری پر مامور کیا۔یہ سیدھا مدینہ پہنچا۔اتفاق سے اس وقت نفس زکیہ بھی مدینہ آئے ہوئے تھے۔زیاد نے ان کو امان دے کر بلا بھیجا۔یہ آئے زیاد نے امان کا پاس کر کے انہیں چھوڑ دیا اور اس کی سزا میں خود قید کیا گیا اور یہ مہم محمد بن خالد کے سپرد ہوئی۔اس نے مدینہ پہنچ کر روپیہ کے ذریعے سے پتہ چلانا چاہا۔جب اس میں کامیابی نہ ہوئی تو خانہ تلاشی شروع کی، لیکن نفس زکیہ کا کہیں پتہ نہ چلا۔آخر میں منصور نے رباح بن عثمان بن حیان المری کو مدینہ کا حاکم بنا کر بھیجا اور سخت تاکید کی کہ محمد اور ابراہیم کی تلاش میں کوشش کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا جائے۔اس نے نہایت سختی کے ساتھ تلاش شروع کی۔اس کی تختی دیکھ کر نفس زکیہ اور ابراہیم کو گرفتاری کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اس لیے وہ برابر ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہوتے رہے اور ان کا پتہ نہ چل سکا۔رباح نے عبداللہ بن حسن پر سختی کر کے ان سے پوچھنے کی کوشش کی۔انہیں قتل بھی کرا دیا لیکن کوئی پتہ نہ چلا۔اس لیے منصور کا غصہ اور تیز ہو گیا اور اس نے رباح کو حکم دیا کہ اگر نفس زکیہ محمد اور ابراہیم نہیں ملتے تو حسن کی کل اولاد گرفتار کر لی جائے چنانچہ یہ سب گرفتار کر کے پابجولاں ربذہ بھیجے گئے۔منصور نے انہیں قید میں ڈلوادیا۔نفس زکیہ کا خروج الفخری ص ۱۳۷ ابن اثیر جلد ۵ ص ۱۹۴۔ابن اثیر ج ۵ ص ۱۹۴ طبری جلد ۱۰ ص ۱۸۷ و ابن اثیر جلد ۵ ص ۱۹۴ یہ واقعہ دونوں کتابوں میں بڑی شرح وبسط کے ساتھ منقول ہے۔ہم نے اس کا صرف ضروری خلاصہ نقل کیا ہے۔