مسیح اور مہدیؑ — Page 491
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں A تاریخ اسلام 491 عکس حوالہ نمبر : 169 رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام 39 کے بعد اکثر شہروں کی فوجیں اس کے پاس چلی آئیں اور قریب قریب پورا اسلامی اندلس اس کے ساتھ ہو گیا اور یوسف کے ساتھ صرف فہر اور قیس کے قبیلے رہ گئے۔اس دوران میں یوسف بھی قرطبہ پہنچ گیا۔اس میں اور عبد الرحمن میں مقابلہ ہوا۔یوسف کی فوج بہت کم تھی، اس لیے اس کو شکست ہوئی اور وہ غرناطہ جا کر قلعہ بند ہو گیا۔عبدالرحمن نے عقب سے پہنچ کر محاصرہ کر لیا۔یوسف کے پاس کوئی بڑی قوت نہ تھی، اس لیے اسے مجبور ہو کر عبدالرحمن کی اطاعت قبول کر لینی پڑی اور دونوں میں مصالحت ہو گئی۔عبدالرحمن نے اسے قرطبہ میں قیام کرنے کی اجازت دے دی لیکن تھوڑے دنوں کے بعد وہ بد عہدی کر کے طلیطلہ چلا گیا۔بیس ہزار بربری اس کے ساتھ ہو گئے۔عبدالرحمن کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے عبدالملک بن عمر مروانی کو اس کے مقابلہ کے لیے بھیجا۔اس نے یوسف کو شکست دی اور اس کے ایک آدمی نے حیلہ سے اس کو قتل کر کے اس کا سر عبد الرحمن کی خدمت میں پیش کیا۔یوسف کے قتل کے بعد ۱۴۱ھ میں اندلس میں بنی امیہ کی حکومت قائم ہو گئی جو کئی صدیوں تک قائم رہی۔ﷺ علوی خلافت کے بارہ میں اہل بیت اور غیر اہل بیت کی نزاع بنی امیہ کے زمانہ سے چلی آ رہی تھی، جو بنی عباس کے زمانہ میں بھی قائم رہی، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور منصور کے زمانہ میں اس کا جس شدت کے ساتھ ظہور ہوا اس کی مثال اموی دور میں بھی نہیں ملتی۔عباسی حکومت کے خلاف علویوں میں ایک عام حرکت پیدا ہو گئی اور سب سے پہلے محمد بن عبد اللہ بن حسن بن علی بن ابی طالب نفس زکیہ نے منصور کے مقابلہ میں خروج کیا۔نفس زکیہ فضل و کمال اور زہد و ورع اور اثر نفوذ کے لحاظ سے بنی ہاشم کے نہایت ممتاز بزرگ تھے۔ان کے والد عبداللہ نے بنی ہاشم کے حامیوں میں مشہور حدیث اسمه کاسمی" کی تبلیغ کر کے ان کو یقین دلایا کہ محمد وہی مہدی موعود ہیں جن کی پیشگوئی آنحضرت صلی العلیم نے اس حدیث میں فرمائی تھی۔چونکہ نام سے وہ اس حدیث کے مصداق تھے۔اس لیے بہت سے عوام خصوصاً شیعیان اہل بیت نے آسانی سے اس کو قبول کر لیا اور بہت بڑی جماعت نے ان کو مہدی تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور نفس زکیہ ایک زمانہ تک خفیہ دعوت یتے رہے۔منصور ابتدا ہی سے ان کی تاک میں لگا ہوا تھا، مگر نفس زکیہ برابر ایک مقام سے دوسرے ابن خلدون جلد ۴ ص ۱۲۱ افتتاح الاندلس میں ان واقعات کو بڑی تطویل سے لکھا ہے۔الفخرى ص ۱۴۸ پوری حدیث یہ ہے۔لو بقى من الدنيا يوم يطول الله ذالك اليوم حتى يبعث فيه مهدينا او قائمنا اسمه کاسمی و اسمه ابه کاسم ابی لیکن محدثین کے نزدیک یہ حدیث پا یا اعتبار سے ساقط ہے۔