مسیح اور مہدیؑ — Page 387
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 387 دنبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی غلبہ Roman Empire) کے پہلے حکمران Maximilion 1459-11 ) سے ہو گیا۔دراصل فتح قسطنطنیہ کے بعد رومی عیسائی حکومت کے مذہبی زوال کے ساتھ یورپ کے معاشی زوال کا بھی آغاز ہو گیا تھا کیونکہ قسطنطنیہ جو یورپ کی چین اور ایشیا سے ہونے والی تجارت کی شاہراہ کے بند ہو جانے سے معاشی بحران میں لوٹ مار کے نتیجہ میں جرائم بڑھ گئے۔ادھر یورپ کے کٹر عیسائیوں کو یہ خوف لاحق ہوا کہ اسلامی فتوحات کے نتیجہ میں ان کے مذہب کی حیثیت ہی ختم ہو کر نہ رہ جائے۔اس لیے یورپ کو مذہب اور تجارت کی خاطر نئی دنیاؤں کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس دوران ایک اطالوی جہاز ران کرسٹوفر کولمبس نے سمندری راستے سے چین، جاپان وغیرہ تک پہنچنے کے لئے نیا راستہ ڈھونڈنے کے نظریہ کے ساتھ سپین کی ملکہ ازابیلا سے مدد کی درخواست کی کہ نئی سر زمینوں کی یہ تلاش معاشی ترقی کے علاوہ زوال پذیر عیسائیت پھیلانے کا بھی موجب ہوگی۔یہی وہ مقاصد تھے جو فتح قسطنطنیہ کے بعد عیسائی پادریوں کو امریکہ کے بعد ہندوستان لے جانے کا بھی موجب ہوئے۔چنانچہ 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے عہد میں عیسائی انگریز ہندوستان میں تجارت کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں آئے اور ہزاروں عیسائی مشنری ایسٹ انڈیا کمپنی کی معیت میں لائے تھے۔جنہوں نے عیسائیت کی تعلیمات ( الوہیت مسیح ، تثلیث اور کفارہ) کا پرچار کیا۔الغرض 18 ویں اور 19 ویں صدی کے دوران پروٹسٹنٹ عیسائی مشنریوں نے ہندوستانی معاشرے میں مغربی تعلیم کو فروغ دیا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے انہی عیسائیوں اور ان کے پادریوں کو دجال کا مثیل قرار دیا ہے جو آخری زمانہ میں گر جا سے نکل کر مشرق و مغرب میں پھیل گئے۔آپ نے فرمایا: انھوں نے ایک موہومی اور فرضی مسیح اپنی نظر کے سامنے رکھا ہوا ہے جو بقول اُن کے زندہ ہے اور خدائی کا دعوی کر رہا ہے۔سو حضرت مسیح ابن مریم نے خدائی کا دعویٰ ہر گز نہیں کیا۔یہ لوگ خود اس کی طرف سے وکیل بن کر خدائی کا دعوی کر رہے ہیں۔۔۔یہ لوگ اپنے دجالانہ منصوبوں کی وجہ سے ایک عالم پر دائرہ کی طرح محیط ہو گئے ہیں۔۔مسیح دجال کی کوئی بھی ایسی علامت نہیں جو ان میں نہ پائی جائے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 362-363 ایڈیشن 2008)