مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 315 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 315

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 315 قیامت سے پہلے دس نشانات 111 سے طاعون سے بیان کی گئی ہے۔(بحار الانوار جلد 12 صفحہ 96 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) رسول اللہ کی پیشگوئی کے مطابق امام مہدی کی صداقت کے لئے چاند اور سورج گرہن کا نشان رمضان کی خاص تاریخوں میں ظاہر ہوا تو حضرت بانی جماعت احمدیہ کو بتایا گیا کہ اگر لوگوں نے اس نشان سے فائدہ نہ اٹھایا تو ان پر ایک عام عذاب نازل ہوگا۔پھر 1898ء میں آپ نے خواب میں دیکھا کہ کچھ فرشتے پنجاب کے مختلف مقامات پر سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور آپ کو بتایا گیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔آپ کو عالم کشف میں ایک کیڑا دکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے۔اس کا نام دابتہ الارض اس لئے رکھا گیا کہ زمین کے کیڑوں سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔دوسرے اس میں یہ اشارہ تھا کہ یہ کیڑر البطور سزا اس وقت نکلے گا جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابتہ الارض یعنی زمینی کیڑے بن جائیں گے۔( نزول اسیح صفحہ 39 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 416 تا 421 ایڈیشن 2008) چنانچہ پیشگوئی کے مطابق یہ دابتہ الارض طاعون کا کیڑا ظاہر ہوا۔ہندوستان میں بمبئی سے طاعون کا آغاز ہوا مگر جیسا کہ حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمایا تھا کہ پنجاب میں بہت سخت طاعون پڑے گی بعد میں ایسا ہی ظہور میں آیا اور ایک غیر معمولی طویل دورہ طاعون کا ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ایک ہفتہ میں تمہیں تمہیں ہزار اموات ہوئیں اور ایک سال میں کئی لاکھ آدمی مر گئے اور ہرسال طاعون میں شدت آتی چلی گئی۔(انسائیکلو پیڈیا آف برٹینی کا زیر لفظ پلیگ جلد 17 صفحہ 991ایڈیشن 1951ء) حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: ”جو نشانیاں زمانہ مہدی معہود کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھیں جیسا کہ اُس کے زمانہ میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا اور طاعون کا ملک میں پھیلنا یہ تمام شہادتیں میرے لئے ظہور میں آگئیں اور اس وقت تک چودھویں صدی کا بھی میں نے چہارم حصہ پالیا۔یہ اس قدر دلائل اور شواہد ہیں کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو میں بھی سمانہیں سکتے۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 329 ایڈیشن 2008) لاکھوں آدمیوں نے یہ قہری نشان دیکھ کر حضرت مرزا صاحب کو مسیح و مہدی موعود قبول کیا۔اس نشان کی عجیب علامت یہ تھی کہ اس وقت تک طاعون کا زور نہیں ٹو ٹا جب تک خود حضرت بانی جماعت