مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 11 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 11

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 11 عکس حوالہ نمبر : 1 واقعہ معراج اور رسول اللہ علی کا بلند مقام كتاب الرد على فجهمية وغيرهم / باب: ارشادالى وكلم الله مُوسَى تكليما یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر، یہ انہیں (دنیا میں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی ( کہ سب سے اوپر کے آسمان پر تشریف فرما ہیں ) فقال موسى ربّ" الخ موسیٰ علیہ السلام نے ( حضور اقدس بل کو دیکھ کر بارگاہ الہی میں یہ عرض کیا یارب میرا خیال نہیں تھا کہ کسی کو مجھ سے بڑھایا جائے گا۔پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور اقدس پینے کو لے کر اوپر چڑھے اس سے اوپر کہ جس کا علم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ سدرة المنتهى پر ہو بچے - (إليها ينتهى علم الملائكة ولم يجاوزها احد الا نبينا صلى الله عليه وسلم)۔وذنا الْجَبَّارُ رَبُّ العِزَّةِ: اور رب العزة ذوالجبروت (پروردگار عالم ) نیچے اتر کر آپ ﷺ سے قریب ہو گئے یہاں تک کہ ہو گیا فاصلہ ایک کمان کے دو مقدار (دو کنارے) یا اس سے بھی قریب (قيل مجاز عن قربه المعنوي وظهور منزلته عند الله عمده)۔فاوحى الله فيما اوحی الخ: پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو وحی بھیجی اس میں ہر دن اور رات میں آپ پہیے پیے کی امت پر پچاس نمازوں کی بھی وحی کی ( حکم دیا) پھر آپ بے اترے یہاں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہونچے تو موسی علیہ السلام نے آپ کو روک لیا اور پوچھا اے حمد (ﷺ) آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ (یعنی کیا حکم دیا ہے؟) حضور اکرم ﷺ نے فرمایا مجھ کو ہر دن ورات میں پچاس نمازوں کا حکم دیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ کی امت میں اس کی استطاعت نہیں ( ہر روز اتنی نمازیں نہیں پڑھ سکیں گی ) آپ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے تخفیف کی درخواست کیجئے چنانچہ نبی اکرم بھی یہ جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے گویا آپ پینے پر اس سلسلے میں مشورہ طلب کر رہے تھے تو جبرئیل علیہ السلام نے اشارہ کیا کہ ہاں اگر آپ چاہیں، چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور اقدس ﷺ کو لے کر بارگاہ ذوالجبروت میں پہونچے اور آنحضور بھی تم نے اپنے مقام اول ( جہاں اترنے سے پہلے تھے ) سے عرض کیا اے پروردگار ہم سے تخفیف کر دیجئے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی تو اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی پھر حضور اقدس پر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کو روکا چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام حضور ﷺ کو برابر پروردگار کے پاس واپس کرتے رہے یہاں تک کہ پانچ نماز میں ہو گئیں پھر موسیٰ علیہ السلام نے پانچ کے وقت بھی حضور اقدس ﷺ کوروکا اور کہا اے محمد (ﷺ) خدا کی قسم میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے تم پر (یعنی صرف دو نمازوں پر) کیا ہے وہ کمزور ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا اور آپ بعدیہ کی امت تو جسم ، قلب، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے آپ واپس جائیے اور اپنے رب سے تخفیف کرائے آنحضور نے جنم ہر مرتبہ جبرئیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تا کہ وہ حضور ﷺ کو مشورہ دیں اور جبرئیل علیہ السلام اسے نا پسند نہیں کرتے تھے چنانچہ جبرئیل علیہ السلام حضور ﷺ کو پانچویں مرتبہ لے گئے تو حضور ﷺ نے عرض کیا یارب میری امت جسم، نصر المادي۔جلد سیزدهم