مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 10 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 10

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں ۳۳۲ 10 عکس حوالہ نمبر : 1 واقعہ معراج اور رسول اللہ ﷺ کا بلند مقام ية / كتاب الرد على الجهمية وغيرهم / باب: ارشاد الى: وَكَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا فَقَالَ يَا رَبِّ إِنَّ أُمَّتِي ضُعَفَاءُ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَأَبْدَانُهُم فَخَفِّفْ عَنَّا فَقَالَ الْجَبَّارُ يَا مُحَمَّدُ قَالَ لَيْكَ وَسَعَدَيْكَ قَالَ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ كَمَا فَرَضْتُهُ عَلَيْكَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ قَالَ فَكُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا فَهِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ فَرَجَعَ إِلى مُوسَى فَقَالَ كَيْفَ فَعَلْتَ فَقَالَ خَلْفَ عَنَّا أَعْطَانَا بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا قَالَ مُوسَى قَدْ وَاللَّهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ ذلِكَ فَتَرَكُوهُ ارْجِعُ إِلى رَبِّكَ فَلْيُخَفِّفْ عَنكَ أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُوسَى قَدْ وَاللَّهِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي مِمَّا اخْتَلَفْتُ إِلَيْهِ قَالَ فَاهْبِطُ بِاسْمِ اللهِ قَالَ وَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ۔) ترجمہ | شریک بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک ﷺ سے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ ﷺ کومسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ آپ ﷺ کے پاس وحی آنے سے پہلے تین افراد (فرشتے) آپ کے پاس آئے اور آنحضور یہ مسجد حرام میں سورہے تھے ( آپ ﷺ بیچ میں سوئے ہوئے تھے ایک طرف آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ہے اور دوسری طرف آپ ﷺ کے بھیجے جعفر بن ابی طالب تھے ) ان میں سے ایک نے پوچھا ( یعنی آنے والے فرشتوں میں سے ایک نے پوچھا) ايهم هو ان میں سے وہ کون ہے؟ (یعنی ان تین سونے والے حضرات میں سے وہ کون ہیں جن کے لیے معراج کا حکم ہوا ہے؟) دوسرے (فرشتہ) نے جواب دیا کہ ان تینوں میں وسط والا جو ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے (فرشتہ ) نے کہا ان میں سے جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اس کے بعد پھر آنحضور میں نے انھیں (یعنی ان فرشتوں کو ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ (فرشتے) آنحضور ﷺ کے پاس دوسری رات آئے ( حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ فرشتوں کی دوسری آمد کتنی مدت کے بعد ہوئی ؟ ظاہر یہ ہے کہ دوبارہ اس وقت آئے جب آپ سے پیغمبر ہو چکے تھے آپ سے پرومی آنے لگی تھی وحینئذ وقع الاسراء والمعراج)۔"فيما يرى قلبه الخ: اس وقت آنحضور جینے کا قلب دیکھ رہا تھا اور آپ ﷺ کی آنکھ سورہی تھی لیکن دل نہیں سورہا تھا ( بلکہ دل بیدار تھا) یہی حال انبیاء علیہم السلام کا ہوتا ہے کہ ان کی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن ان کے قلوب نہیں سوتے چنانچہ ان فرشتوں نے آنحضور ﷺ سے کوئی بات نہیں کی بلکہ آنحضور کو اٹھالیا اور زمزم کے کنویں کے پاس لائے پھر ان فرشتوں میں سے آنحضور ﷺ کا کام جبرئیل علیہ السلام نے اپنے ذمہ لے لیا اور جبرئیل علیہ السلام نے گلے سے دل کے نیچے تک چاک کیا یہاں تک کہ سینے اور پیٹ کو ( انسانی خواہشات سے خالی کیا اور اپنے ہاتھ سے آب زمزم سے دھو یا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ خرب صاف کیا پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان وحکمت سے بھرا ہوا تھا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کا سینہ اور حلق کے رگوں کو اس سے بھر دیا پھر اس کو سی دیا ( یعنی بند کر دیا ) اس کے بعد آپ ﷺ کو نهر الباری 40 جلد سیزدهم