مسیح اور مہدیؑ — Page 276
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 276 مجد دین اُمت کے بارہ میں پیشگوئی اور اس کا ظہور کو مجدد و مسیح موعود و مہدی تسلیم کر لیا جائے۔جنہوں نے 1885ء میں خدا تعالیٰ سے علم پا کر مجد دوقت ہونے کا دعوی کیا۔اور اپنی شہرہ آفاق تصنیف براہین احمدیہ کے حوالہ سے واضح طور پر اعلان فرمایا ک کتاب براہین احمدیہ جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامور ہوکر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔مصنف کو اس بات کا علم دیا گیا ہے کہ وہ مجد دوقت ہے۔“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 319-320 ایڈیشن 2008) آپ نے 1907ء میں یہ واشگاف اعلان فرمایا: و صلحائے اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے تیس سال گزر گئے ہیں۔پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعوی کیا۔اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس کے دعوئی پر پچیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں اور میں ہی وہ ایک ہوں جس نے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔پس جب تک میرے اس دعوئی کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعوی ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔“ 66 (حقیقۃ الوحی صفحہ 194 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 ایڈیشن 2008) پس بلا شبہ حضرت بانی جماعت احمد یہ ہی وہ صیح و مہدی موعود ہیں جن کے ذریعہ چودھویں صدی میں بھی مجددین امت کی پیشگوئی پوری ہوئی اور آپ کی تجدید دین کا سلسلہ خلافت علی منہاج النبوۃ کے ذریعہ جاری ہے اور انشاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا اور خلفائے احمد بیت تجدید دین کی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔انشاء اللہ العزیز