مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 274 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 274

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 274 مجد دین اُمت کے بارہ میں پیشگوئی اور اس کا ظہور 16 - مجد دین اُمت کے بارہ میں پیشگوئی اور اس کا ظہور عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُلَهَا دِيْنَهَا۔(ابوداؤ دارد و جلد سوم صفحہ 255 مترجم ابوالعرفان محمد انور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور) 93 ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ کھڑے کرتا رہے گا جو اس امت کے دین کو از سر نو تازہ کر کے اس کی تجدید کرتے رہیں گے۔تشریح: یہ حدیث ابو داؤد نے اپنی سنن میں اور حاکم نے مستدرک میں بیان کی ہے۔امام حاکم اور علامہ ابن حجر نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔شیعہ مسلک میں بھی یہ حدیث مسلّم ہے۔94 ( الفروع من الجامع الکافی جزء 2 صفحہ 192 مطبع العالی نولکشور ) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ ان میں خلیفے کھڑے کرتا رہے گا جس طرح پہلی قوموں میں خلفاء قائم کئے تاکہ وہ دین کو مضبوط کریں۔(النور: 56) چنانچہ خلافت راشدہ کے بعد تجدید دین کا ایک روحانی سلسلہ مجددین امت کی شکل میں بھی ظاہر ہوا۔اس حدیث کے مطابق رسول کریم ﷺ کے بعد تیرہ سو سال میں ہر صدی میں ایسے ائمہ علماء وفقہاء اور مفسرین ومحدثین پیدا ہوتے رہے جو دین کی خدمت پر کمر بستہ رہ کر اصلاح امت اور تجدید دین کا فریضہ ادا کرتے رہے۔جماعت احمد یہ ایسے تمام مجد دین امت کو برحق یقین کرتی ہے۔اہل سنت کے مسلک کے مطابق ہم نہ صرف تیرہ صدیوں کے مسلمہ مجددین کی خدمات کے معترف ہیں بلکہ ان مجددین کے علاوہ بھی ان صدیوں میں جن بزرگان امت کا اپنا دعویٰ مجددیت ثابت نہیں مگر ان کی تجدید دین