مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 179 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 179

مثل این مریم مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 593 179 عکس حوالہ نمبر : 59 مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی۔مكانها عليْكَ لَيْل طويل، فَارْقَدْ فَإِن ہے۔پڑا سوتا رہ۔لیکن اگر وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر شروع کرتا ہے استيقظ فذكر الله الحلت عُقْدَةً، فإن تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل توضأ انحلت عقدة، فإن صلی انخلت جاتی ہے۔پھر جب نماز فجر پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور عقدة كلها فاضح نشيطا طيب النفس، صبح کو خوش مزاج خوش دل رہتا ہے ورنہ بلہ مزاج ست رہ کر وہ دن والا أصْبَحَ حُبتَ النَّفْس كَلان)۔گزارتا ہے۔راجع ١١٤٢] ٣٢٧٠- حدثنا عثمان بن أبي شيبة قال (۳۲۷۰) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کیا ہم سے جریر نے خدت جرير عن منصور عن أبي وائل بیان کیا ان سے منصور نے ان سے ابووائل نے اور ان سے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذکر عبداللہ بن مسعود اللہ نے بیان کیا کہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم عند النبي رجل نام لَيْلَةً حتى أصبح اسلام کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جو رات بھر دن چڑھے قال: ورذاك رجل بال الشيطاا في اذنه، تک پڑا ہوتا رہا ہو، آپ نے فرمایا کہ یہ ایسا شخص ہے جس کے کان یا أو قال : في أذنه))۔(راجع: ١١٤٤/ دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔یہ حدیث کیا ہے گویا تمام صحت اور فرحت کے نسخوں کا خلاصہ ہے، تجربہ سے بھی ایسا ہی معلوم ہوا ہے جو لوگ تجھ کے وقت سے یا صبح سویرے سے اٹھ کر مہارت کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں ان کا سارا دن چین اور آرام اور خوشی سے گزرتا ہے اور جو لوگ صبح کو دن چڑھے تک سوتے پڑے رہتے ہیں وہ اکثر بیمار اور ست مزاج کامل رہتے ہیں۔تمام حکیموں اور ڈاکٹروں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ صبح سویرے بیدار ہوتا اور صبح کی ہوا خوری کرنا صحت انسانی کے لئے بے حد مفید ہے۔مین (حضرت مولانا وحید اخترمان مرحوم) کہتا ہوں جو لوگ صبح سویرے اٹھ کر طہارت سے فارغ ہو کر نماز اور ذکر انہی میں مصروف رہتے ہیں ان کو اللہ تعالی رزق کی وسعت دیتا ہے اور ان کے گھروں میں بے حد برکت اور خوشی رہتی ہے اور جو لوگ صبح کی نماز نہیں پڑھتے دن چڑھے تک سوتے رہتے ہیں وہ اکثر افلاس اور بیاری میں جتنا ہوتے ہیں۔ان کے گھروں میں نحوست پھیل جاتی ہے۔اگرچہ سب نمازیں فرض ہیں مگر فجر کی نماز کا اور زیادہ خیال رکھنا چا ہیے، کیونکہ دنیا کی صحت اور خوشی اس سے حاصل ہوتی ہے۔(وحیدی) ٣٢٧١- حدثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ (۳۲۷۱) ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے خدقْنَا هَمَّامٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ من بیان کیا، ان سے منصور نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے ان سے أبي الجَعْدِ عَنْ كُرَني عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ کریب نے اور ان سے ابن عباس میں ا نے کہ نبی کریم ہم نے رضي اللهُ عَنْهُمَا عَن النبي ﷺ قَالَ: ((أَمَّا فرمایا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آیا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے إن أحدكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ وَقَالَ: بسم اللَّهِ: " اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ! ہم سے شیطان کو دور جنبنا الشيطان وَجَنبِ الشَّيْطَانَ مَا رکھ اور جو کچھ ہمیں تو دے (اولاد) اس سے بھی شیطان کو دور رکھ۔" رزَقْنَا، فَرُوقًا وَلَدًا لَمْ يَضُرة الشيطان۔پھر اگر ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں راجع: ١٤١] پہنچا سکتا