مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 74
پر واولہ دل کی تلاش ہمنشیں تجھ کو ہے اک پُر امن منزل کی تلاش مجھ کو اک آتش فشاں پر ولولہ دل کی تلاش سعی پیہم اور گنج عافیت کا جوڑ کیا مجھ کو ہے منزل سے نفرت تجھ کو منزل کی تلاش ڈھونڈتی پھرتی تھی شمع نور کو محفل کبھی اب تو ہے خود شمع کو دُنیا میں محفل کی تلاش یا تو سرگرداں تھا دل جستجوئے یار میں یا ہے اس یارِ ازل کو خود مرے دل کی تلاش میں وہ مجنوں ہوں کہ جس کے دل میں ہے گھر یار کا اور ہوگا وہ کوئی جس کو ہے محمل کی تلاش گلشن عالم کی رونق ہے فقط انسان سے گل بنانے ہوں اگر تو نے تو کر گل کی تلاش اس رُخ روشن سے مٹ جاتی ہیں سب تاریکیاں عاشق سفلی کو ہے کیوں اس میں ایک تل کی تلاش آسمانی میں عدد میرا زمینی ، اس لئے میں فلک پر اڑ رہا ہوں اس کو ہے بل کی تلاش