مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 73
73 بھائی سے ملتے وقت ہوتی ہے۔لیکن چونکہ بعض ادنی درجہ کے لوگ اخلاق فاضلہ کو چھوڑ کر نا جائز فائدہ کے حصول کی بھی کوشش کیا کرتے ہیں اس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو ملحوظ رکھو اور انصاف سے کام لو اور ایسی سفارشوں سے اپنے کانوں کو بہر ارکھو۔ایک اور بات ان کو یہ یاد رکھنی چاہیئے کہ ہر قوم اپنے ماحول میں ترقی کرتی ہے، دوسروں کے ماحول میں ترقی نہیں کر سکتی۔جو شخص دوسروں کے ماحول کو لے کر ترقی کرتا ہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔حال ہی میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا آدمی چل بسا ہے یعنی کمال اتاترک۔اس شخص نے اپنے وطن اور قوم کے لئے بڑی خدمات کی تھیں۔کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو اس کی قربانیوں کو عظمت اور احترام کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہو مگر ایک خطر ناک غلطی اس سے یہ ہوئی کہ اس نے اپنی قوم میں مغربیت کا اثر قائم کر دیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے ترکوں کو جسمانی آزادی دلا دی مگر ساتھ ہمیشہ کے لئے ترکوں کو ذہنی غلام بھی بنادیا۔ہمیں یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔ہم جن مقاصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک مقصد مغربی تمدن کو کچلنا بھی ہے۔مغربی تمدن اس وقت دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔ہمیں اس سے کسی صورت میں بھی متاثر نہیں ہونا (الفضل ۸ اپریل ۱۹۶۱ء) چاہئے۔