مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 777
777 ہے ، میرے گاؤں میں بھی طاعون نہیں آئے گی چنانچہ جب طاعون کی وبا پھوٹی تو انہوں نے اپنے اس خیال کے مطابق اپنے مریدوں سے جو تعداد میں پانچ سات سے زیادہ نہیں تھے ، کہا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر ان کے پاس آجا ئیں چنانچہ وہ ان کے پاس آگئے لیکن بعد میں انہیں خود طاعون ہو گئی۔ان کے مریدوں نے کہا کہ چلو اب جنگل میں چلیں لیکن انہوں نے کہا جنگل میں جانے کی ضرورت نہیں۔طاعون مجھ پر اثر نہیں کرے گی۔آخر جب مریدوں نے دیکھا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں تو وہ انہیں ہسپتال میں لے گئے اور وہ اسی جگہ طاعون سے فوت ہو گئے۔بهر حال جب بیعت خلافت ہوئی تو پیغامیوں نے سمجھا، میر عابد علی عابد صاحب چونکہ صوفی منش آدمی ہیں اور عبادت گزار ہیں اس لئے الوصیت کے مطابق چالیس آدمیوں کا ان کی بیعت میں آجانا کوئی مشکل امر نہیں چنانچہ مولوی صدر الدین صاحب اور بعض دوسرے لوگ رات کو ان کے پاس گئے اور کہا آپ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں چنانچہ وہ اس بات پر آمادہ ہو گئے۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے دیانتداری سے کام لیا۔وہ جب اس مجلس سے واپس آگئے جس میں جماعت نے مجھے خلیفہ منتخب کیا تھا تو ان لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے بڑی بیوقوفی کی۔آپ اگر مجلس میں اعلان کر دیتے کہ میری بیعت کر لو تو چونکہ مرزا محمود احمد صاحب یہ کہہ چکے تھے کہ میں خلیفہ بننا نہیں چاہتا، لوگوں نے آپ کی بیعت کر لینی تھی اور ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی آپ کی بیعت کر لیتے۔انہوں نے کہا میں یہ کام کیسے کر سکتا تھا۔میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔بهر حال جب ان لوگوں نے دیکھا کہ مولوی محمد علی صاحب خلیفہ بننے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے جیسا کہ میں نے بتایا ہے ، میر عابد علی صاحب کو بیعت لینے کے لئے آمادہ کیا اور اس کے بعد وہ ہری کین لے کر ساری رات قادیان میں دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر پھرتے رہے لیکن انہیں چالیس آدمی بھی سید عابد علی عابد شاہ صاحب کی بیعت کرنے والے نہ ملے۔اس وقت کے احمدیوں کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ غریب سے غریب احمدی بھی کروڑوں تھوکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پھیلے۔جب انہیں میر عابد علی صاحب کی بیعت کے لئے چالیس آدمی بھی نہ ملے تو وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت حقہ کی وجہ سے کئی معجزات دکھائے ہیں۔تم دیکھ لو ۳۴ء میں مجلس احرار نے جماعت پر کس طرح حملہ کیا تھا لیکن وہ اس حملہ میں کس طرح ناکام ہوئے۔انہوں نے منہ کی کھائی۔پھرے ۴ء میں قادیان میں کیا خطر ناک وقت آیا لیکن ہم نہ صرف احمدیوں کو بحفاظت نکال لائے بلکہ انہیں لاریوں میں سوار کر کے پاکستان لے آئے۔دوسرے لوگ جو پیدں آئے تھے ، ان میں سے اکثر مارے گئے لیکن قادیان کے رہنے والوں کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔اب بھی کچھ دن ہوئے مجھے ایک آدمی ملا۔اس نے مجھے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کوئی شخص قادیان سے نہ نکلے چنانچہ ہم نے تو آپ کے حکم کی تعمیل کی اور وہاں عمر ے رہے لیکن میرے ایک رشتہ ، ار گھبرا کر ایک قافلہ کے ساتھ پیدن آگئے اور راستہ میں ہی مارے گئے۔ہم جو وہاں بیٹھے رہے الماریوں میں سوار ہو کر حفاظت سے پاکستان آگئے۔اس وقت اکثر ایسا ہوا کہ پیدن قافلے پاکستان کی طرف آئے اور جب وہ روپیه پر