مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 770
770 خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں جماعت کو خلافت کی برکات سے نوازا ہے جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ ان برکات کو یادرکھیں اور خلافت احمدیہ کا جھنڈا قیامت تک قائم رکھتے چلے جائیں ذیل میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی وہ تقریر شائع کی جارہی ہے جو حضور نے ۲۱ اکتو بر ۱۹۵۶ء کو خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع میں فرمائی تھی۔(مرتب) اس دفعہ مختلف وجوہات کی بناء پر جماعت احمدیہ کی مختلف مرکزی انجمنوں نے قریب قریب عرصہ میں اپنے سالانہ اجتماع منعقد کئے جس کی وجہ سے مجھ پر زیادہ بوجھ پڑ گیا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے تین چار سال پہلے جلسہ سالانہ پر میں آپ کی تقاریر سنتا رہا ہوں۔آپ کی وفات کے وقت میری عمر انیس سال کی تھی اور اس سے چار پانچ سال قبل میری عمر قریباً چودہ سال کی تھی اس لئے میں آپ کی مجالس میں جاتا اور تقاریر سنتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر عام طور پر پچاس منٹ یا ایک گھنٹہ کی ہوتی تھی اور وفات سے پانچ سال پہلے آپ کی عمر قریباً اتنی ہی تھی جتنی اس وقت میری ہے لیکن اللہ تعالی کی کسی مشیت کے ماتحت مجھ پر ایک خطرناک بیماری کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے میں اب لمبی تقاریر نہیں کر سکتا۔پہلے میں جلسہ سالانہ کے موقع پر پانچ پانچ چھ چھ گھنٹہ کی تقاریر کر لیتا تھا مگر اس بیماری کے اثر کی وجہ سے مجھے جلدی ضعف محسوس ہونے لگتا ہے۔آج بلجنہ اماءاللہ کا اجتماع بھی تھا۔وہاں بھی میں نے تقریر کی۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ کئی سال سے آپ کی عورتوں میں کوئی تقریر نہیں ہوئی اس لئے آپ اس موقعہ پر عورتوں میں بھی تقریر کریں چنانچہ میں نے تقریر کرنی منظور کرلی اور صبح وہاں میری تقریر تھی۔اس وقت تمہاری باری آگئی ہے۔چار پانچ دن کے بعد انصار اللہ کی باری آجائے گی پھر جلسہ سالانہ آجائے گا۔اس موقع پر پھر مجھے نقار یہ کرنی ہوں گی۔پھر ان کاموں کے علاوہ تفسیر کا اہم کام بھی ہے جو میں کر رہا ہوں۔اس کی وجہ سے نہ صرف مجھے کوفت محسوس ہو رہی ہے بلکہ طبیعت پر بڑا بوجھ محسوس ہو رہا ہے۔اس سے اگر چہ میری خواہش تھی کہ اس موقع پر میں لمبی تقریر کروں مگر میں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔اب پیشتر اس کے کہ میں اپنی تقریر شروع کروں، آپ سب