مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 742
742 اللہ تعالیٰ کی محبت اور خدمت خلق کو اپنی زندگیوں کا مقصد بناؤ "گذشتہ سیلاب کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کے خدام نے اچھا نمونہ دکھایا ہے اسی طرح قادیان کے خدام نے بھی خدمت خلق کا اچھا مظاہرہ اس موقع پر کیا ہے جو خوشکن امر ہے۔اس وقت تک یورپ مسلمانوں کو ہی طعنہ دیا کرتا تھا کہ گو مسلمان اسلام کی برتری اور فضیلت پر بہت زور دیتے ہیں لیکن ان کا عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی فہرست کے لئے قربانی نہیں کرتے۔اس اعتراض کا بہترین رد یہی ہو سکتا ہے کہ جب بھی موقع ملے ، ہم اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق خدمت کریں۔امریکہ اور یورپ کے عیسائی خدمت خلق سے جو کام کرتے ہیں وہ ہمیشہ انہیں اپنی عظمت اور سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اگر جماعت کے خدام اور انصار ہر جگہ اور ہر موقعہ پر خدمت خلق کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں تو یقینا اس سے ان لوگوں کے منہ بند ہو سکتے ہیں جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں"۔حضور نے فرمایا :۔"کبھی بھی یہ مت خیال کرو کہ لوگ تمہارے کام کی قدر نہیں کرتے۔تم لوگوں کی خاطر نہیں بلکہ خدا تعالٰی کی خاطر خد مت کرو اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور خدمت خلق کو اپنی زندگیوں کا مقصد بناؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تمہاری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔یہ ضروری نہیں کہ طوفان اور سیلاب ہی آئیں تو پھر تم خدمت کرو۔مومن کو تو ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان مصائب سے دنیا کو بچائے رکھے لیکن خدمت خلق کے مواقع ہر وقت میسر آسکتے ہیں مثلا بیماروں کو دوائی لا کر دینا۔غریبوں ، محتاجوں ، بیواؤں کی مدد کرنا۔یہ سب کام ایسے ہیں جو تم ہر وقت کر سکتے ہو اور یہ کام تمہارے پروگرام کا مستقل حصہ ہونے چاہئیں"۔( فرموده ۲۷دسمبر ۱۹۵۵ء مطبوعه الفضل یکم جنوری ۶۱۴۵۶)