مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 56
56 مثلاً ہمارے ملک میں گالی دینے کا عام طور پر رواج ہے اور اس بچوں سے گالی گلوچ کی عادت دو ر کرو میں شرم و حیا سے کام نہیں لیا جاتا۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کو جب چوٹ لگی تو مرہم پٹی کرنے کے لئے ایک مخلص دوست مقرر تھے۔مگر ان کی زبان پر بہن کی گالی بہت چڑھی ہوئی تھی۔ایک دن جب کہ حضرت خلیفہ اول کے پاس ہم سب بیٹھے ہوئے تھے اور باہر سے بھی کچھ مهمان آئے ہوئے تھے۔ایک دوست نے بر سبیل تذکرہ دریافت کیا۔ابھی حضرت صاحب کا زخم اچھا نہیں ہوا۔اس پر وہ بے اختیار زخم کو بہن کی گالی دے کر کہنے لگے یہ اچھا ہونے میں آتا ہی نہیں۔حضرت خلیفہ اول اس وقت سامنے بیٹھے تھے اور باقی سب دوست بھی موجود تھے۔ان کے منہ سے جب اس مجلس میں یہ گالی نکلی تو ہم سب پر ایک سکتے کی حالت طاری ہو گئی۔مگر پھر ہم یہی سمجھ کر خاموش ہو رہے کہ ان بیچاروں کو اس گالی کی عادت پڑی ہوئی ہے۔تو گالی دینے کی عادت ہی جب کسی شخص میں پیدا ہو جاتی ہے اس کا مٹانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح اور کئی قسم کی بری عادتیں ہیں جو ہمارے ملک میں لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ان عادتوں کو مٹاکر ان کی جگہ اگر نیک عادتیں پیدا کر دی جائیں تو لازماً قوم کی اصلاح ہو سکتی ہے۔پس مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ نوجوانوں کی اصلاح کریں بلکہ ان کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کی اصلاحی شاخ الگ قائم کریں اور اس کے ذریعہ جو چھوٹی عمر کے بچے ہیں ان کی تربیت کریں۔میں اس کے لئے بھی انشاء اللہ تعالیٰ انہیں قواعد تیار کر دوں گا۔سر دست جو تین باتیں میں نے بتائی ہیں ان پر انہیں عمل کرنا چاہئے۔یعنی بچوں میں نماز کی عادت ، بیچ کی عادت اور محنت کی عادت پیدا کرنی چاہئے۔محنت کی عادت میں آوارگی سے بچنا خود بخود آ جاتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ بھی اور بیرونی جماعت کی مجالس بھی ان اصول کے ماتحت اپنے کام کو محنت سے سرانجام دیں گی۔اور خدمت خلق کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھیں گی۔میں خدمت خلق کے کام کو عار نہ سمجھو نے بار ہا بتایا ہے کہ خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہو سکے وسعت اختیار کرنی چاہئے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دور کرنا چاہئے۔خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ۔ہمارا خدا رب العالمین ہے اور جس طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔پس اگر خدا ہمیں توفیق دے تو ہمیں سب کی خدمت کرنی چاہئے۔یہاں قادیان میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے ہم عارضی طور پر ہندوؤں سے سودا نہیں خریدتے۔مگر بیسیوں ہندو اور سکھ ہمارے پاس امداد کے لئے آتے رہتے ہیں اور ہم ہمیشہ ان کی امداد کرنے رہتے ہیں۔ایک دفعہ کانگریس کی ایک مشہور لیڈ ریہاں آئیں اور انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہاں کے ہندوؤں کو بہت تکلیف ہے۔میں نے کہا میں ایسی بیسیوں مثالیں دے سکتا ہوں کہ جب یہ ہندو میرے پاس آئے اور میں نے ان کی امداد کی اور ان پر بڑے بڑے احسان کئے۔چنانچہ بعض واقعات میں نے انہیں بتائے بھی۔وہ میری