مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 585
585 یہ کوشش کرے گا کہ اس کی دلیل زیادہ اعلیٰ ہو۔پھر کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔صرف دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس نے مقررہ وقت میں یہ مضمون لکھ لیا ہے۔صاحب القلم اس کو کہتے ہیں جو کسی مضمون کو مقررہ وقت میں لکھ سکے اور صاحب القلم پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے۔پھر تقریری امتحان بھی اسی طرح کا ہو نا چاہئے۔ایک اور چیز بھی ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایسا کوئی انتظام نہیں کہ اگر مضمون میں کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی اصلاح کر دی جائے۔مثلاً یہی مضمون کہ پاکستان کو کس بلاک میں شامل ہونا چاہئے ، یہ مضمون طلباء کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔اگر کوئی لیکچرار کوئی ایسی بات کہہ دے جو سلسلہ کی پالیسی کے خلاف ہو اور اس کی بعد میں تردید نہ کی جائے تو سننے والا وہی خیال ساتھ لے جائے گا اور کہے گا کہ میں خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع پر گیا تھا اور وہاں سے یہ بات سن کر آیا ہوں۔پس اس موقعہ پر ایسا انتظام بھی ہونا چاہئے کہ کوئی شخص کسی قسم کا کوئی غلط خیال اپنے ساتھ لے کر نہ جائے۔میں بعد میں کوئی ایسا طریق مقرر کر دوں گا جس سے غلط خیالات کی تردید ہو سکے اور خدام اپنے ساتھ غلط خیالات لے کر نہ جائیں۔۔یہ ہدایتیں میں آئندہ اجتماع کے متعلق دیتا ہوں۔تحریری اور تقریری مقابلوں کے لئے مجالس کو پہلے لکھا جائے۔وہ اپنی میٹنگ بلائیں اور اپنے اپنے نمائندہ کو نوٹ لکھوائیں۔نمائندہ اپنی اپنی مجلس کے ارکان سے دلائل سن کر آئے اور اگر یہ پتہ لگ جائے کہ بعض اچھے جو ان تیار ہو گئے ہیں تو انہیں سٹیج پر بولنے کے لئے زائد وقت بھی دیا جا سکتا ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوائے ایک دو نوجوانوں کے کسی نے کوئی خاص بات بیان نہیں کی اور نہ ہی کسی نے یہ خیال کیا ہے کہ جو دو منٹ وقت ملا ہے اس میں کوئی اچھی بات بیان کروں۔" فرموده ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۰ء مطبوعہ ماہنامہ " خالد " اکتوبر ۱۹۶۲ء)