مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 518
518 میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی شخص اس بات میں لگا ر ہے کہ قاری کی طرح وہ قرات کر سکے لیکن جو کام آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اسے کیوں چھوڑا جائے۔یہ کوشش کرنا کہ ہم اسے قاری کی طرح ہی ادا کریں درست نہیں کیونکہ اس کی طاقت ہمیں خدا نے نہیں بخشی۔میری مرحومہ بیوی ام طاہر بیان کیا کرتی تھیں کہ ان کے والد صاحب کو قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے اپنے لڑکوں کو قرآن پڑھانے کے لئے استاد رکھے ہوئے تھے اور لڑکی کو بھی قرآن پڑھنے کے لئے اس کے سپرد کیا ہوا تھا۔ام طاہر بتایا کرتی تھیں کہ وہ استاد بہت مارا کرتے تھے اور ہماری انگلیوں میں شاخیں ڈال ڈال کر ان کو دباتے تھے۔مارتے تھے۔پیٹتے تھے اس لئے کہ ہم ٹھیک طور پر تلفظ کیوں ادا نہیں کرتے۔ہم پنجابی لوگوں کا لجہ ہی ایسا ہے کہ ہم عربوں کی طرح عربی الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔لاہور میں ایک میاں چٹو رہا کرتے تھے۔وہ بعد میں چکڑالوی ہو گئے۔ان کے پاس ایک عرب آیا اور وہ اس کو لے کر قادیان پہنچے۔ان دنوں صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید جو علاقہ خوست کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے ، یہاں تک کہ امیر امان اللہ خان کے دادا حبیب اللہ خان کی رسم تاجپوشی بھی انہی سے ادا کروائی گئی تھی، وہ بھی قادیان آئے ہوئے تھے۔وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو تین دفعہ "ض " کا استعمال کیا۔آپ کا لجہ اگر چہ درست تھا لیکن لکھنو کے آدمی جیسے اسے ادا کرتے ہیں آپ ویسے ادا نہیں کر سکتے تھے۔دو چار دفعہ آپ نے یہ لفظ استعمال کیا تو وہ عرب جو کئی سال سے لکھنو میں رہتا تھا اور اردو بولتا تھا، اس نے کہا آپ کو کس نے مسیح موعود بنایا ہے۔آپ کو تو ”ض " بھی صحیح طور پر ادا کرنا نہیں آتا۔صاحبزادہ صاحب بڑے عالم تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ اس کی کیا حقیقت ہے۔وہ غصہ میں آگئے اور اسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے دیکھ لیا۔آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی۔آپ چونکہ پٹھان تھے اور طاقتور تھے اور مولوی عبد الکریم صاحب اکیلے اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ آپ اسے مار بیٹھیں گے۔اب دیکھو اس عرب نے یہ کیسی لغو حرکت کی۔ہر ملک کا الگ الگ لہجہ ہوتا ہے۔عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطِقِینَ بِالصّادِ ہیں ، ہندوستانی اسے ادا نہیں کر سکتے۔ہندوستان میں ضاد کو قریب ترین ادا کرنے والوں میں سے ایک میں ہوں لیکن میں بھی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے بالکل صحیح ادا کر تا ہوں، قریب ترین ہی ادا کرتا ہوں۔ہندوستانی لوگ اسے دوا د یا ضاد پڑھتے ہیں لیکن اس کے مخارج اور ہیں۔پس جب خود عرب کہتا ہے کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں اور کوئی اسے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو پھر اعتراض کی بات ہی کیا ہوئی۔جر من لوگوں کو لے لو وہ گڑ اور گاڈ کے لفظوں کو ادا نہیں کر سکتے۔وہ یا گر کہیں گے یا گوٹھ کہیں گے۔پس میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم ان الفاظ کو ادا کرنے کا اہتمام کریں جن کے ادا کرنے کے ہم قابل نہیں۔یہ تو محض وقت کا ضیاع ہے لیکن الف ادا کرنا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔مد کو ادا کر نا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔اگر صحیح طور پر کوشش کی جائے تو قرآن کو ہم اپنے لہجہ کے لحاظ سے اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں۔خصوصاً جب کہ گلا اچھا ہو۔پھر تلاوت