مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 517

517 پس تنقید کئی وجوہ سے ہوتی ہے۔کبھی کام کرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے کہ کم حوصلہ تنقید کی وجوہات انسان ست نہ ہو جائے اور ہمت نہ ہار بیٹھے اور کبھی سخت تنقید کی جاتی ہے تابا حوصلہ آدمی زیادہ سے زیادہ اپنے دماغ پر زور ڈال کر اپنے مخفی جو ہر کو باہر نکالنے کی کوشش کرے۔یہ کام بہت ہی مشکل ہے۔فطرت کا سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔جیسے اس استاد نے غلطی کی اور اتنی سخت تنقید کی کہ جس سے شاگر دمایوس ہو گیا اور آخر اس نے دھو کہ دیا جس کی وجہ سے وہ آئندہ ترقی حاصل نہ کر سکا۔پس کبھی ایسا ہو تا ہے کہ انسان غلط اندازہ لگاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ فلاں آدمی بہت بلند حوصلہ ہے۔اس پر جتنی بھی تنقید کی جائے گی اتنی ہی وہ محنت کرے گا اور اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوں گے لیکن اس کا نتیجہ الٹ نکلتا ہے۔وہ کم حو صلہ اور کم ہمت ہو تا ہے اور اس تنقید کی وجہ سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور آئندہ ترقیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ کم حوصلہ اور کم ہمت ہے۔اس کی ہمت و حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ اس کی تعریف کر دیتا ہے لیکن وہ کم حوصلہ نہیں ہو تا۔اگر وہ اس پر تنقید کر تا تو اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوتے لیکن استاد نے اس کا اندازہ غلط لگایا اور کم حوصلہ سمجھ کر تعریف کردی۔اس تعریف کی وجہ سے وہ محنت اور مزید جد وجہد نہیں کرتا اس لئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا اور ان اعلیٰ ترقیات سے محروم ہو جاتا ہے جس کا حصول اس کے لئے ممکن تھا مگر ان خطرات کے درمیان بہر حال ایک تیرا رستہ بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان اچھے کام کی تعریف کرے اور برے کام کی مذمت کرے۔بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ تھوڑی سی کوشش سے درست ہوتی ہیں اور اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو قومی ترقی رک جاتی ہے۔کوئٹہ میں میں پہلی دفعہ آیا ہوں۔اگر چہ یہاں کے خدام میں سے بعض نے قادیان میں تعلیم پائی ہے اور بعض کے ماں باپ بھی وہاں رہتے تھے مگر پھر بھی ان کے کاموں پر مجھے تنقید کرنے کا اس طرح موقعہ نہیں ملا جیسے آج ملاتے۔میں جب سے یہاں آیا ہوں میں محسوس کرتا ہوں کہ صحیح تلاوت کرنے کی طرف توجہ کی ضرورت یہاں کے خدام علمی حصے کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔مثلا جس خادم نے تلاوت کی ہے اس نے اس امر کو ملحوظ نہیں رکھا کہ قرآن مجید صحیح طور پر پڑھا جائے۔اگر وہ تھوڑی سی اس امر کی کوشش کرتے تو بڑی آسانی کے ساتھ صحیح طور پر تلاوت کر سکتے تھے۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے بالعموم الف کو فتح کے ساتھ ادا کیا ہے۔ان کی تلاوت میں ۵۰ یا ۶۰ فیصد کی الف تھے جو انہوں نے فتح کے ساتھ ادا کئے ہیں حالانکہ الف اور فتح الگ الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔اسی طرح انہوں نے مدات کو بالعموم گرا دیا ہے یعنی جہاں دو الف تھے وہاں انہوں نے ایک ہی الف پڑھا ہے۔اسی طرح اور باتیں بھی تھیں جن کی وجہ سے تلاوت ناقص ہو گئی۔