مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 459

459 دو کام کا وقت یہی ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے چاروں طرف تحریک پیدا ہو رہی ہے اور لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مبلغ بھیجو مگر مشکل یہی ہے کہ ہمارے پاس مبلغ بھی کم ہیں اور روپیہ بھی کافی نہیں۔اس وقت ہماری مثال وہی ہے جو احد کے مردوں کی تھی کہ کپڑوں کی کمی کی وجہ سے جب صحابہ ان کے سرڈھانکتے تھے تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے اور پاؤں ڈھانکتے تھے تو سر ننگے ہو جاتے تھے۔آخر رسول کریم میل ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پاؤں پر از خر گھاس ڈال کر دفن کر دو۔اس وقت جو لوگ مکمل مبلغ نہیں وہ اپنے آپ کو پیش کریں تو اذخر گھاس کا کام دے سکتے ہیں۔پھر ہمارے اداروں کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ جلدی جلدی مبلغ پیدا ہوں۔اس وقت بیرونی ممالک میں جو بیداری پیدا ہوئی ہے، یہ جنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ دنیا کی زندگی تو بالکل بے حقیقت چیز ہے دین کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس رو سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہئے ورنہ کچھ عرصہ کے بعد یہ حالت نہیں رہے گی۔ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ جلدی جلدی نوجوانوں کو تعلیم سے فارغ کریں۔کام کا وقت یہی ہے۔اس وقت جتنا کام ایک اکیلا مبلغ کر سکتا ہے بعد میں اتنا کام دس مبلغ بھی نہیں کر سکیں گے۔تمام اداروں میں تعلیم پانے والے طالب علموں کو بھی چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت صرف کر کے اور زیادہ سے زیادہ محنت کر کے تعلیم کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔اس وقت پانچ سو سے ہزار تک مبلغین کی بیرونی ممالک میں ضرورت ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے ہاں اس قسم کے بورڈ لگا ئیں کہ اس درسگاہ کے اتنے طلباء نے خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور اس بہال اتنے طلباء دین کی خدمت کے لئے باہر جانے والے ہیں۔جامعہ احمدیہ کی تو غرض ہی یہی ہے کہ مبلغین تیار کئے جائیں۔باقی درسگاہوں میں سے تعلیم الاسلام ہائی سکول نے بہت اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور سینکڑوں طالب علموں کے نام پیش کئے ہیں۔ابھی تک کالج نے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کیا۔شاید اس وجہ سے کہ وہ دنیا کمانے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔اس لئے ان میں زندگی وقف کرنے کی رغبت پیدا نہیں ہوتی۔اگر اس قسم کے بورڈ لگا دیئے جائیں تو دوسروں کے لئے تحریک کا باعث ہوتے ہیں۔اسی طرح ہمارے تجارتی ادارے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ نفع مند ثابت کرنے کی کوشش کریں تاکہ خدمت دین کے لئے جو روپے کی ضرورت ہے وہ بھی پوری ہوتی رہے"۔(فرمودہ ۲۷ مئی ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۲۲ ستمبر ۱۹۶۰ء)