مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 445

445 میں سے جو ملازم ہیں کوئی چالیس روپے لیتا ہے کوئی پچاس روپے اور میں تین چار سو روپیہ ماہوار کمالیتا ہوں۔مجھے نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اگر جماعت ان کاموں میں ترقی کرنے کی کوشش کرے تو وہ دوسری جماعتوں سے پیچھے رہ جائے۔اگر ہماری جماعت میں سے پانچ چھ فیصدی لوگ مستری ہو جائیں تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے لوگ مشینری میں کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ان لوگوں کو آرگنائز (Organise) کر کے آئندہ ان کے لئے زیادہ اچھا پروگرام بنایا جا سکتا ہے اور کچھ اور لوگوں کو ان کے ساتھ لگا کر کام سکھایا جا سکتا ہے۔اس وقت میرے نزدیک اگر مرکزی مجلس ایک موٹر خرید سکے تو یہ بہت مفید کام ہو گا۔اس کے ذریعہ خدام کو موٹر ڈرائیونگ کا کام سکھایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ موٹر کی عام مرمت کیا ہوتی ہے۔جو خادم سیکھیں ان میں سے بعض مختلف جگہوں پر موٹر کی مرمت کی دکان کھول لیں۔یہ بہت مفید کام ہے۔اس میں جسمانی صحت بھی ترقی کرے گی اور آمدنی کا ذریعہ بھی ہو گا۔اس کے علاوہ نوجوانوں کو گھوڑے کی سواری ، سائیکل کی سواری سکھائی جائے۔سائیکل کی سواری کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہوتی ہے کہ اسے کھولنا اور مرمت کرنا آتا ہو کیونکہ بعض اوقات چھوٹی سی چیز کی خرابی کی وجہ سے انسان بہت بڑی تکلیف اٹھاتا ہے۔پس ہمارے خدام کو مشینری کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے آج کل مشینوں میں برکت دی ہے۔جو شخص مشینوں پر کام کرنا جانتا ہو ، وہ کسی جگہ بھی چلا جائے اپنے لئے عمدہ گزارہ پیدا کر سکتا ہے۔آج کل تمام قسم کے فوائد مشینوں سے وابستہ ہیں اور جتنا مشینوں سے آج کل کوئی قوم دور ہو گی اتنی ہی وہ ترقیات میں پیچھے رہ جائے گی اسی طرح اگر خدام لوہار ، ترکھان، بھٹی اور دھونکنی کا کام سیکھیں تو ان کی ورزش کی ورزش بھی ہوتی رہے گی اور پیشہ کا پیشہ۔بھی ہے۔چونکہ خدام کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔اگر خدام ایسے کام کریں تو وہ ایک طرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہونگے اور دوسری طرف اپنا گزارہ پیدا کرنے والے ہونگے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنا یہ ہمارا طرہ امتیاز ہونا چاہئے جیسے بعض تو میں اپنے اندر بعض خصوصیتیں پیدا کر لیتی ہیں۔وہ قومیں جو سمندر کے کنارے پر رہتی ہیں وہ نیوی میں بڑی خوشی سے بھرتی ہوتی ہیں لیکن اگر انفنٹری میں بھرتی ہونے کے لئے انہیں کہا جائے تو اس کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوں گے اور اگر پنجاب کے لوگوں کو نیوی میں بھرتی ہونے کے لئے کہا جائے تو وہ اس سے بھاگتے ہیں لیکن انفنٹری میں خوشی کے ساتھ بھرتی ہوتے ہیں اور یہ صرف عادت کی بات ہے۔پس ہمارے خدام کو یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے کہ یہ مشینوں کا زمانہ ہے اور آئندہ زندگی میں وہ مشینوں پر ا کام کریں گے۔اگر کار خانوں میں کام نہ کر سکو تو ابتداء میں لڑکوں میں ان کھیلوں کا ہی رواج ڈالو جن میں لوہے کے پرزوں سے مشینیں بنانی سکھائی جاتی ہیں۔مثلاً لوہے کے ٹکڑے ملا کر چھوٹے چھوٹے پل بناتے ہیں۔پنگھوڑے ، ریلیں اور اسی کی بعض اور چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ایسی کھیلوں سے یہ فائدہ بھی ہو گا کہ بچوں کے ذہن انجنیئر نگ کی طرف مائل ہونگے۔