مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 438
438 اسے یہ بتا دیا کہ خدا تعالیٰ کا خیال مستقل نماز ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتی اور وہ اسی خیال کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔اس قسم کے شبہات اور وساوس لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کئی نادان ان پر کار بند بھی ہو جاتے ہیں۔جب تک ان کو دلائل کے ساتھ رد نہ کیا جائے اس وقت تک ایسے لوگ ہدایت کس طرح پاسکتے ہیں۔ہم یہ احمقانہ خیال ہے کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو جاتے۔پس یہ ضروری امر ہے کہ ہر محلہ یا شہر میں ایسے رجسٹر موجود ہوں اور ہر تبلیغ کرنے والے پر جو اعتراضات مخالفین کی طرف سے ہوں ، وہ اس رجسٹر میں لکھے جائیں۔اگر خود لکھا پڑھا نہ ہو تو سیکرٹری کو لکھا دے۔دو تین ماہ کے بعد وہ اعتراضات مرکز میں آجائیں۔مرکز والے ان اعتراضوں کے جواب شائع کریں۔ان جوابات میں ہزاروں ہزار آدمیوں کے سوالات کے جواب آجائیں گے اور جن لوگوں کے دلوں میں ایسے خیالات ہوں گے وہ ان جوابات کو پڑھ کر ان خیالات کو ترک کر دیں گے اور اس طرح ہر مضمون کے متعلق پاکٹ بکیں بن جائیں گی اور تبلیغ کرنے والوں کو تبلیغ میں بہت آسانی ہوگی اور اس کا فائدہ بھی ہو گا کہ ہر سال دو سال میں لوگوں کے ایک معتدبہ حصہ کے مرضوں کی تشخیص ہو جائے گی اور اس بات کا علم ہو تا رہے گا کہ آج کل دشمن کس پہلو سے حملہ کرنا چاہتا ہے۔عظمندوں کے سوالوں کا جواب دینا زیادہ آسان ہوتا ہے بہ نسبت جاہلوں کے سوالوں کے۔جاہل آدمی طریقت اور شریعت کی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مولوی شریعت کے متعلق جو سوال ہوں ان کا جواب تو دے سکتے ہیں لیکن ہم طریقت کے پابند ہیں۔ہمارے سوالوں کے جواب مولویوں کے پاس نہیں۔پس ایسے لوگوں کے سوالوں کو اس نگاہ سے دیکھا جائے کہ ہم نے ان کا بھی علاج کرنا ہے۔تمام دنیا کے لوگ ارسطو اور افلاطون نہیں ہو سکتے۔دنیا میں ہر قسم کے لوگوں کا پایا جانا ضروری ہے۔پس جس علم کا کوئی شخص مالک ہو اسی کے مطابق اس سے گفتگو کرنی پڑے گی۔۔چونکہ ہم نے ہر مرض کا علاج کرنا ہے اور شیطان کے پیدا کردہ وساوس اور شبہات کو دور کرنا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر ایک سوال کا جواب مدلل طور پر دیں۔یہ طریقہ جو میں نے بیان کیا ہے میرے نزدیک تبلیغی لحاظ سے بہت مفید ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر انجمن دیا نتداری سے ان سوالوں کو جمع کرے تو ایک سال کے جمع شدہ سوالوں کے جواب میں دس پندرہ ضخیم کتابیں بن سکتی ہیں۔پس حق پر جس قدر اعتراض ہوتے ہیں سب ہی غیر معقول ہوتے ہیں۔صرف فرق یہ ہو تا ہے کہ بعض اس شکل میں پیش کئے جاتے ہیں کہ بہت سے لوگ ان سے دھوکا کھا سکتے ہیں اور بعض اس شکل میں پیش ہوتے ہیں کہ بہت کم لوگ ان سے دھوکا کھا سکتے ہیں۔پس جب قرآن کریم بھی غیر معقول اعتراضوں کا جواب دیتا ہے اور ہماری کیا بہتی ہے کہ ہم کہیں کہ ہم پر مدلل اور معقول اعتراض کئے جائیں تو ہم جواب دیں گے ورنہ نہیں۔پس اس بات کا خیال نہ کیا جائے کہ یہ سوال مدلل ہے اور یہ سوال غیر مدلل ہے۔