مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 422
422 ضلع کے پریذیڈنٹ کا شہر میں جھگڑا ہو تو شہر کے پریذیڈنٹ کا محلہ میں جھگڑا ہو تو محلہ کے پریڈیڈ نٹ کا فرض ہے کہ وہ دونوں فریق کو جمع کریں اور ان کے شکوے سن کر باہمی اصلاح کی کوشش کریں اور اگر اس سے اصلاح نہ ہو سکے تو وہ لوکل انجمن کے سامنے معاملہ رکھیں۔پھر لوکل انجمن کا فرض ہے کہ وہ لوکل مجلس انصار اللہ اور لوکل مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک ایک نمائندہ بلوائے اور اس طرح ملا کر جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرے اور در حقیقت ہماری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ جماعت کو ترقی حاصل ہو۔یہ غرض نہیں کہ تفرقہ اور شقاق پیدا ہو۔پس میرے نزدیک اس معاملہ میں خدام الاحمدیہ کی بھی غلطی ہے انصار اللہ کی بھی غلطی ہے۔لوکل انجمن کی بھی غلطی ہے اور اگر اس رنگ میں یہ معاملہ لوکل انصار اللہ تک پہنچ گیا تھا تو پھر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی بھی غلطی ہے کہ اس نے اس جھگڑے کو دور نہ کیا۔آخر جب کوئی جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔یہ نہیں ہو تا کہ بغیر کسی سبب کے ہی جھگڑا پیدا ہو جائے۔جب کسی انسان کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کے اندر ضرور کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے یا اس کی انتڑیوں میں نقص ہے یا معدہ میں نقص ہے یا جگر میں پھوڑا ہے یا پتہ میں پتھری ہے یا گر دہ میں پتھری ہے۔بہر حال کوئی نہ کوئی پیٹ درد کی وجہ ہوگی۔اس طرح جب لڑائی ہو جاتی ہے یا تفرقہ اور شقاق کی کوئی صورت رونما ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بات ہوتی ہے۔بعض دفعہ وہ بات اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ سننے والا حیران رہ جاتا ہے۔مگر بہر حال چونکہ موجود ہوتی ہے اس لئے جب تک اس کا ازالہ نہ کیا جائے تفرقہ اور شقاق دور نہیں ہو سکتا۔میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم چار ذیلی تنظیمیں عمارت کی چار دیواروں کی طرح ہیں سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو مکمل کر دوں۔ایک دیوار انصار اللہ ہیں، دوسری دیوار خدام الاحمدیہ اور تیسری اطفال الاحمدیہ اور چوتھی دیوار لجنات اماء اللہ ہیں۔اگر یہ چاروں دیوار میں ایک دوسری سے علیحدہ علیحدہ ہو جائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہو سکے گی۔عمارت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی چار دیواریں آپس میں جڑی ہوئی ہوں۔اگر وہ علیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چار دیوار میں ایک دیوار جتنی بھی قیمت نہیں رکھتیں کیونکہ اگر ایک دیوار ہو تو اس کے ساتھ ستون کھڑا کر کے چھت ڈالی جاسکتی ہے لیکن اگر ہوں تو چاروں دیوار میں لیکن چاروں علیحدہ علیحدہ کھڑی ہوں تو ان پر چھت نہیں ڈالی جاسکے گی اور اگر اپنی حماقت کی وجہ سے کوئی شخص چھت ڈالے گا تو وہ گر جائے گی کیونکہ کوئی دیوار کسی طرف ہوگی اور کوئی دیوار کسی طرف۔ایسی حالت میں ایک دیوار کا ہونا زیادہ مفید ہوتا ہے بجائے اس کے کہ چار دیواریں ہیں اور چاروں علیحدہ علیحدہ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہئے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پر سی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جواب دہ ہوں گے ہی میرے سامنے بھی وہ جوابدہ ہوں گے یا جو بھی امام ہو گا اس کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں اس لئے مہیا نہیں کئے کہ جماعت کو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کر دیا جائے۔“ (خطبہ جمعہ فرموده ۲ جولائی ۱۹۴۵ء مطبوعہ الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۴۵ء)