مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 405
405 سفارش نہیں کر سکتا تھا اس لئے میں اس بات کو محکمانہ رپورٹ پر ترجیح دیتا ہوں۔اب دیکھو جس شخص کی رپورٹ کو وہ رد کر رہا تھا وہ انگریز اور اپنے محکمہ کا افسر تھا لیکن اسے چونکہ یہ یقین ہو گیا تھا کہ میں واقعہ کی بلا تحقیق تائید نہیں کر سکتا اس لئے اس نے نہایت دلیری کے ساتھ لکھ دیا کہ خود ر پورٹ کرنے والا افسر انگریز ہے لیکن جس شخص نے میرے پاس سفارش کی ہے ، وہ کبھی ایک غلط واقعہ کی تائید نہیں کر سکتا اس لئے اس کی بات درست ہے اور محکمانہ رپورٹ غلط۔پس سچائی کو اپنا شیوہ بناؤ کیونکہ سچائی دلوں کو موہ لیتی ہے اور دوسرے کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتی۔سچائی کو اپنا شیوہ بناؤ میں پھر قادیان کے نوجوانوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شعار اسلام کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔خصوصا سے میرا مطلب یہ ہے کہ قادیان کا مرکز ہے اس لئے مرکز کے نوجوانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ورنہ میرا مطلب یہ نہیں کہ لاہور والے یا دوسری جگہوں والے بیشک شعار اسلامی کی پابندی نہ کریں اور وہ اپنی داڑھیاں بے شک منڈواتے رہیں بلکہ سب کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اچھا نمونہ پیش کریں۔اگر تم داڑھیاں رکھو گے ، دنیا میں اسلام کا رعب قائم ہونا شروع ہو جائے گا اور لوگ خیال کریں گے کہ اس دہریت کی زندگی میں اس فلسفیانہ فضا میں اس عیاشی اور نزاکت کی صدی میں جبکہ دنیا داڑھیوں سے نسی اور ٹھٹھا کر رہی ہے ، یہ لوگ اسلام کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں اور کسی کی رائے کا خیال نہیں کرتے واقعی ان کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اور یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔صرف قادیان والوں سے میرا یہ خطاب نہیں بلکہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس حکم کو مد نظر رکھے۔پھر نمازوں کے متعلق سختی سے پابندی کی جائے اور ہر ایک شخص کے متعلق نوٹ کیا جائے کہ وہ باجماعت نماز ادا کرتا ہے یا نہیں۔اسی طرح سچائی پر خصوصیت کے ساتھ کار بند ہونے کی کوشش کی جائے۔اگر انسان سچ پر کار بند ہو جائے تو وہ تمام گناہوں سے بچ سکتا ہے۔تم ہمیشہ سچ کی تائید کرو اور سچ کو پھیلانے کی کوشش کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے دباؤ کے ماتحت بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔جماعتی دباؤ ایک بہت بڑا حربہ ہے۔تم غیر احمدیوں سے کئی دفعہ سنتے ہو کہ احمدیت تو کچی ہے لیکن رشتہ دار نہیں چھوڑے جاسکتے اور رشتہ داروں کی مخالفت برداشت نہیں ہو سکتی۔پس اگر قومی دباؤ جھوٹ کی تائید میں ہو گا تو جھوٹ پھیلے گا۔اگر قومی دباؤ سچ کی تائید میں ہو گا تو بیچ پھیلے گا اور لوگوں کو امن ملے گا کیونکہ سچ سے دنیا میں ہمیشہ امن قائم ہوتا ہے۔تم اس قومی دباؤ سے فائدہ اٹھاؤ۔" (خطبه جمعه فرموده ۱۴ فروری ۱۹۴۵ء مطبوعه الفضل ۲۱ فروری ۱۹۴۵ء)