مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 404

404 نہیں اس لئے وہ کہہ دے گا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔میں نے اسے بلایا اور پوچھا تو اس نے صاف طور پر اقرار کیا کہ ہاں میں نے یہ خطا کی ہے۔جب اس نے صاف طور پر اقرار کر لیا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے منہ پر مہر لگادی ہے۔میں نے السلام علیکم کہہ کر رخصت کر دیا۔تو گناہ میں بھی سچ ایک قسم کا غلبہ رکھتا ہے اور جھوٹ نیکی میں بھی شکست دلاتا ہے۔فرض کرو کوئی شخص کسی کے پاس اپنا مال رکھواتا ہے اور پھر خود ہی کسی وقت وہ مال اٹھا کر لے جاتا ہے اور پوچھنے پر انکار کر دیتا ہے کہ میں نے نہیں لیا تو گو مال اس کا ہی تھا لیکن وہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے گناہگار ہو گیا اور ہر شخص جسے اس بات کا علم ہو گا وہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا کہ اس نے اپنا مقام ضائع کر لیا۔لیکن سچ کے یہ معنے بھی نہیں ہوتے کہ دوسرے پر ہر بات ظاہر کر دی جائے اور نہ ہی کوئی خص دوسرے کو ہر ایک بات ظاہر کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ہاں جن باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کا ر سول حکم دیتا ہے، ان کو بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہو نا گو اس کے لئے بھی کچھ پابندیاں ہیں مثلاً قاضی کو بھی ہر بات پوچھنے کا اختیار نہیں دیا گیا بلکہ اس کے متعلق تعیین کر دی گئی ہے کہ قاضی اس قسم کا سوال کر سکتا ہے اور اس قسم کا سوال نہیں کر سکتا۔ہمارا خد اغفار اور ستار ہے۔وہ غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کر سکتا ہے۔اس لئے ہر بات کا اعلان ضروری نہیں ہاں جو بات تم سے قاضی پوچھے وہ تم بیان کر دو۔اگر تم کو شریعت کے احکام کا علم ہو جائے تو تمہارے لئے سچ بولنا کوئی مشکل نہ رہے۔مثلا کوئی شخص تم سے پوچھتا ہے کہ تم فلاں جگہ گئے اور تم نہیں بتانا چاہتے تو جھوٹ نہ بولو۔اس سے کہہ دو کہ میں نہیں بتانا چاہتا۔اسی طرح شریعت نے بے شک قاضی کو سوال کرنے کا حق دیا ہے لیکن بعض باتیں ایسی ہیں جن میں قاضی کو بھی سوال کرنے کا حق نہیں ہو تا۔مثلا شریعت کہتی ہے کہ بدکاری کے جب تک چار گواہ نہ ہوں اس وقت تک ان کی گواہی قبول نہ کی جائے لیکن کسی موقعہ پر کوئی شخص اکیلا گواہ ہے اور معاملہ کسی طرح قاضی کے پاس پہنچتا ہے اور قاضی اس کو گواہی کے لئے بلاتا ہے تو وہ قاضی کو کہہ سکتا ہے کہ میں نے دیکھایا نہیں دیکھا اس کا سوال نہیں لیکن آپ کو گواہی لینے کا حق نہیں جب تک کہ چار گواہ نہ ہوں۔غرض اس صورت میں شریعت قاضی کو مجرم ٹھراتی ہے کہ اس نے اس سے کیوں شہادت طلب کی اور اس شخص نے شریعت کی ہتک نہیں کی بلکہ قاضی نے شریعت کی ہتک کی ہے کہ صرف ایک آدمی سے گواہی مانگی پس شریعت کے مسائل کی ہتک کی ہے۔پس شریعت کے مسائل کو سمجھو اور سچ کو اپنا شعار بناؤ۔جب دنیا پر ثابت ہو جائے گا کہ تم سچ بولتے ہو تو تمہارا مظلوم ہو نا دنیا پر روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا اور دنیا تمہاری طرف مائل ہو جائے گی۔اگر تمہارا ایک آدمی ایک طرف ہو گا اور ہزار آدمی ایک طرف ہو گا تو بھی دنیا یہ کے گی کہ جو بات یہ ایک آدمی کہتا ہے ، وہ صحیح ہے اور جو بات یہ ہزار آدمی کہتا ہے ، وہ غلط ہے۔شملے میں ایک انگریز افسر تھا۔اس کے ساتھ میرے کچھ تعلقات ہو گئے اور وہ مجھ سے لمتا رہتا تھا۔اس طرح اسے ہماری جماعت کے متعلق معلوم ہو گیا کہ لوگ سچ بولتے ہیں۔میرا ایک عزیز جو فوج میں ملازم تھا، اس کا افسر اس پر خفا ہو گیا اور اس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس رپورٹ کر دی اور اس کی ملازمت خطرے میں پڑ گئی۔اس نے شرم کے مارے مجھے اطلاع نہ دی۔جب مجھے اس معاملہ کا علم ہوا تو میں نے اس انگریز سیکرٹری کو کہلا بھیجا کہ اصل میں واقعات اس طرح ہیں۔میں نے تحقیقات کرلی ہے۔میں یہ نہیں چاہتا کہ ناجائز طور پر اس کی مدد کی جائے۔اگر اس کا قصور ثابت ہو جائے تو بے شک اسے سزادی جائے لیکن میری تحقیق سے اس کا قصور ثابت نہیں ہو تا۔آپ مہربانی کر کے اس بالا افسر سے اتنا کہہ دیں کہ وہ فیصلہ کرے تو ماتحتوں کی رائے پر عمل نہ کرے بلکہ خود اس معاملے کی تحقیقات کرے۔اس نے اس کا وعدہ کیا۔چنانچہ اس نے جو چٹھی اس محکہ کے ڈائریکٹر کو لکھی اس کی ایک کاپی مجھے خان صاحب منشی برکت علی صاحب نے ( جو آجکل جائنٹ نا ظر بیت المال ہیں) بھجوائی۔اس وقت خان صاحب اس محکمہ میں افسر تھے۔اس چٹھی میں یہ لکھا تھا کہ فلاں افسر کے خلاف رپورٹ ہوئی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس معاملہ کو آپ خود مسل پڑھ کر فیصلہ کریں۔ماتحتوں کی رپورٹوں پر فیصلہ نہ کریں۔آگے اس نے لکھا تھا کہ گو اس کے خلاف ایک انگریز افسر نے شکایت کی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جس شخص نے میرے پاس سفارش کی ہے ، وہ ایسار است باز ہے کہ جب تک اس نے پوری تحقیق نہ کرلی ہو وہ