مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 399
399 امکان ہے۔اس صورت میں اگر وہ اخفا سے کام لیتا ہے اور دوسرا شخص حملہ کر کے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ جس نے بات کو سنا تھا اور جسے اس سازش کا پہلے سے علم ہو چکا تھا مگر اس نے ظاہر نہیں کیا وہ بھی اس قتل میں شریک سمجھا جائے گا۔اگر یہ وقت پر بتا دیتا تو اصلاح کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ اس نے وقت پر نہیں بتایا اس لئے وہ بھی قاتل سمجھا جائے گا اور شریعت کے نزدیک مجرم ہو گا۔پس قومی جرم سے مراد وہ جرم ہیں جن کا ضرر کسی دوسرے انسان کو پہنچ سکتا ہو اور فردی جرم سے مراد وہ جرم ہے جس کا ضرر کسی دوسرے کو نہ پہنچتا ہو یا کسی ایسے گذشتہ جرم کا ذکر کرنا جو خواہ اپنی ذات میں قومی جرم ہو لیکن وہ حال سے منقطع ہو چکا ہو وہ بھی فردی جرم سمجھا جائیگا۔مثلا فرض کرو ایک شخص نے آج سے دس سال پہلے کوئی چوری کی تھی اور چوری کرنا ایک قومی جرم ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی کے دس سالہ گذشتہ چوری کے واقعہ کا ذکر کرتا ہے تو اس چوری کو قومی جرم نہیں بلکہ فردی قرار دیا جائیگا۔ایسی صورت میں ضروری ہو گا کہ وہ دوسرے کے ما پر پردہ ڈالے اور اس کا لوگوں میں اظہار نہ کرے۔دس سال پہلے اگر اس نے کسی کی پنسل چرالی تھی یا ایسی ہی کوئی چیز چرالی تھی تو گو چوری کے لحاظ سے اس کا یہ جرم کم نہیں مگر چونکہ اس پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اس لئے اب اس کا اظہار کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اب اس چوری کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انسان تو بہ کرے اپنے گذشتہ قصور پر استغفار کرے اور آئندہ کے لئے یہ عہد کرے کہ وہ ایسا فعل کبھی نہیں کرے گا۔بہر حال استنالمبا عرصہ گزرنے پر اس کا یہ فعل قومی جرم نہیں رہا بلکہ ایک فردی جرم بن گیا ہے۔پس ہر وہ جرم جس کا ازالہ نہیں ہو سکتایا جس فعل کے دوبارہ ہونے کا امکان نہیں وہ فردی جرم ہے اور ہر وہ جرم جس کا ازالہ ہو سکتا ہے اور جس کا اثر قوم پر پڑتا ہے تو وہ قومی جرم ہے۔پس قومی اور فردی جرائم میں جو فرق ہے وہ بار بار نوجوانوں کو بتانا چاہئے تاکہ ایک طرف جہاں لوگوں میں تجس کا مادہ پیدا نہ ہو وہاں دوسری طرف لوگوں کے اخلاق کی نگرانی ہو سکے اور معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اخلاقی حصوں پر عمل کرنے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے اس میں اصلاح اخلاق کی کوشش کی جاتی تو میرے سامنے یہ ذکر نہ آتا کہ قادیان میں مخفی طور پر بعض لوگ گراں قیمت پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ قادیان میں ایسا ہو تا ہے یا نہیں ہو تا لیکن اگر ہو تا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدام الاحمدیہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ان کے نمائندے ہر محلہ میں موجود ہیں۔ہر گھر میں موجود ہیں اور وہ اگر چاہتے تو اس نقص کا آسانی کے ساتھ ازالہ کر سکتے تھے لیکن چونکہ انہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذمہ داری خدام الاحمدیہ کے کارکنوں پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ باتیں بار بار اپنے نمائندوں کے سامنے نہیں رکھیں ورنہ اس سستی اور غفلت کا ان کی طرف سے مظاہرہ نہ ہوتا۔