مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 398

398 جرائم کا ارتکاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو فورا ظاہر کر دو۔بے شک اگر کسی شخص میں کوئی فردی کمزوری پائی جاتی ہے تو تم اس کے عیب کو نہ ظاہر کر دو بلکہ علیحدگی میں اس کو سمجھاؤ اور دل میں اس کی ہدایت اور اصلاح کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو۔تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم فردی کمزوریوں کا لوگوں میں ذکر کرتے پھر ولیکن جس طرح فردی جرائم کو ظاہر کرنا گناہ ہے اسی طرح قومی جرائم کا چھپانا گناہ ہے۔جب تمہیں قومی جرائم کا علم ہو تو تمہارا فرض ہے کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو ظاہر کرو۔ہر مجلس اصلاح اخلاق کے سلسلہ میں ریکارڈ اپنے پاس رکھے میرے نزدیک اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہر مجلس اصلاح اخلاق کے سلسلہ میں اپنے پاس ریکارڈ رکھے جس میں یہ ظاہر ہو سکے کہ کن کن اخلاق کی طرف ہمیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا کہ فردی جرائم میں صرف نصیحت کرنا کافی ہے جرم کرنے والے نام کو ظاہر کرناضروری نہیں لیکن ریکارڈ میں بغیر نام ظاہر کرنے کے اس امر کی صراحت کی جاسکتی ہے کہ ہم نے اتنے لوگوں کو فلاں فلاں فردی جرائم کی بناء پر نصیحت کی اور ان کو اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے۔اسی طرح جب قومی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کا بھی ریکارڈ میں ذکر آنا چاہئے۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہر مجلس یہ بتا سکے گی کہ سو میں سے اتنے فیصدی فلاں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔اتنے فیصدی لوگوں میں فلاں قسم کی کمزوری پائی جاتی ہے اور اتنے فیصد لوگ فلاں عیب میں مبتلا ہیں۔بے شک اگر ان لوگوں کا نام ظاہر کیا جائے گا تو شریعت کے خلاف ہو گا لیکن بغیر نام کی صراحت کے ایک عام ریکارڈ کے ذریعہ یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کن کن اخلاق کی نوجوانوں میں کمی ہے اور کن امور کی طرف ہمیں توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مثلاً سچائی ہے۔ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر مجلس میں کتنے فیصدی نوجوان سچائی اختیار کرنے میں اعلیٰ نمونہ نہیں دکھا رہے یا اشاعت فحش ایک جرم ہے۔ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کتنے لوگ ہمارے اندر موجود ہیں۔بہر حال اخلاق کی نگہداشت خدام الاحمدیہ کا ایک اہم فرض ہے اور ہر رکن کے لئے اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ قومی جرم کا چھپانا ایک خطر ناک جرم ہے جس طرح فردی جرم کو ظاہر کرنا جرم ہے۔قومی جرم اور فردی جرم میں فرق قومی جرم سے مراد در حقیقت دو قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔اول وہ جرم جو قوم کے خلاف ہوتے ہیں اور جن کا قومی لحاظ سے شدید نقصان ہو تا ہے۔دوسرے وہ افعال جو کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کسی دوسرے پر قاتلانہ حملہ کرنے کے متعلق کوئی بات کر رہا ہو تو اس کا علم کسی اور شخص کو ہو جائے تو یہ فردی جرم نہیں ہو گا بلکہ قومی جرم ہو گا کیونکہ اس کا نقصان قوم کے ایک فرد کو پہنچنے کا