مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 385
385 طرح جانتا اور سمجھتا ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے جس کے اندر ہم نے کیا کرنا ہے بھی شامل ہے اور دوسرے یہ کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔جب یہ دونوں باتیں حل ہو جائیں اور پھر جو کچھ ہم نے کہنا ہو وہ اپنے اندر اہمیت بھی رکھتا ہو تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔یہی وہ چیز ہے جسے یورپ کے لوگ آجکل خاص طور پر اہمیت دیتے ہیں۔بالخصوص اخبارات کے نمائندے جب کسی لیڈر سے ملتے ہیں تو اس سے کہتے ہیں آپ کا پیغام کیا ہے یعنی آپ دنیا کو وہ کون سی بات بتانا چاہتے ہیں جسے وہ جانتی نہیں یا جس کو وہ بھول چکی ہے اور اسے یاد دلانے کی ضرورت ہے۔لیکن چونکہ وہ ایک عظیم الشان مضمون کو چند لفظوں میں بیان کرنا چاہتے ہیں اس لئے بسا اوقات بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔مسیحیت کی شریعت کے احترام کے بارے میں غلطی در حقیقت یہ غلط فہمی اور چین نامہ نگاروں اور اور چنین مصنفین کو مسیحیت سے لگی ہے۔مسیحیت نے یہ کہہ کر کہ شریعت لعنت ہے ، تمام مذہبی تفصیلات کو بے کار قرار دے دیا ہے اور صرف ایک نقطہ نگاہ پیش کیا ہے کہ ”خدا محبت ہے“۔اس ایک نقطہ کو لے کر انہوں نے باقی ساری چیزوں کو ترک کر دیا ہے۔اور پھر ”خدا محبت ہے “ کی ترجمانی بھی انہوں نے خدا کے سپرد نہیں کی بلکہ اپنے ذمہ لے لی ہے۔پس چونکہ انہوں نے مذہب کے معنی ایک فقرہ کے کرلئے ہیں اور چونکہ اس ایک فقرہ کے نتیجہ میں انہوں نے خدا اور اس کے رسولوں کو مذہب کی تفصیلات بیان کرنے سے چھٹی دے دی ہے اور ان کو اس کام سے بالکل معطل کر دیا ہے اس لئے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ باقی مذاہب بھی کسی ایک نقطہ یا کسی ایک فقرہ میں ساری تفصیلات کو بیان کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باقی مذاہب کے بھی بعض خلاصے ہیں مگر ان مذاہب کے پیرؤوں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے ان خلاصوں کو اتنا پھیلایا نہیں کہ دنیا ان خلاصوں سے ہی سمجھ سکتی کہ وہ مذاہب دنیا کے سامنے کون سا پیغام لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔اسلام کا پیغام " مثلا اسلام کو لے لو۔اسلام بھی کہتا ہے کہ خدا محبت ہے اور اسلام نے بھی اپنے مذہب کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔" لا اله الا الله محمد رسول الله - مگر جس طرح عیسائیت نے خدا محبت ہے “ کی تشریح مختلف جہتوں اور مختلف شعبوں سے مختلف عبارتوں میں انسانی جذبات سے وابستہ کر کے کی ہے، اُس طرح لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی تشریح نہیں کی گئی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب خدا محبت ہے کی ایک چھوٹی سی تشریح بھی کسی نامہ نگار کے سامنے بیان کی جاتی ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ دنیا کے لئے کار آمد باتیں ہیں۔