مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 27
27 اگر نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہو جاؤ تعاون کرنے والے خود بخود آملیں گے ہم نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہو جاؤ تو میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کر سکتا ہے۔سورج مغرب کی بجائے مشرق میں ڈوب سکتا ہے مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی نیک کام کو جاری کیا جائے اور وہ ضائع ہو جائے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ تم نیک کام کرو اور خدا تمہیں قبولیت نہ دے۔رسول کریم ملی و یا لیلی نے قبل از وقت ہمیں بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقبولیت خداتعالی بخشتا ہے جب کوئی شخص مقبول ہو جاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں کو پتہ دیتا ہے۔اور کہتا ہے فلاں بندہ میری نگاہ میں مقبول ہے پھر وہ اگلے فرشتوں کو بتاتے ہیں اور وہ اپنے سے اگلے فرشتوں کو فیوضع له القبول فی الارض یہاں تک کہ دنیا کے لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کر دی جاتی ہے۔مگر اس مقبولیت کا پیمانہ تمہارے دل کا اخلاص ہے۔تمہارے دل کا اخلاص جتنا زیادہ ہو گا اتنی ہی زیادہ یہ مقبولیت ہوگی اور تمہارے دل کا اخلاص جتنا کم ہو گا اتنی ہی کم یہ مقبولیت ہو گی۔پس میں یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان کو بھی نصیحت کرتا ہوں اور ان بیرونی جماعتوں کو بھی جن کے نوجوان اس مجلس کی نقل میں کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس نیت سے کام کریں کہ صرف کام کرنے والے نوجوان اپنے اندر شامل کریں گے۔تعداد بڑھانے کے لئے ہر شخص کو شامل نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح جو تجربہ کار لیکچرار یا تجربہ کار لکھنے والے ہیں ان کو شروع میں اپنے اندر شامل نہ کیا جائے۔بیشک نگرانی کیلئے کسی وقت ان سے مشورہ لے لیا جائے۔مگر انہیں اپنا ممبر نہ بنائیں تادہ ان کے کام پر حاوی نہ ہو جائیں اور ان کی عقلیں ان کی عقلوں کے مقابلہ میں پست نہ ہو جائیں۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک بڑے درخت کے نیچے اگر ایک چھوٹا پودا لگا دیا جائے تو چند ہی دنوں میں سوکھ جاتا ہے۔اسی طرح حسب راستے لوگوں کو اپنے اندر شامل کیا جائے تو چھوٹوں کا ذہنی ارتقاء رک جاتا ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے قاریان میں یہ مرض نہایت شدت سے پھیلا ہوا ہے۔کوئی جلسہ ہو کوئی ٹی پارٹی ہو۔کوئی دعوت ہو اس میں مجھے ضرور شامل کریں گے جس کا یقینا انہیں یہ نقصان پہنچتا ہے کہ انہیں خود اٹھنے اور کام کرنے کا موقع نہیں۔رسول کریم ملی تعلیم کے زمانہ میں ایسا طریق بہت کم نظر آتا ہے۔اور گو صحابہ رسول کریم م ایم کو بلاتے بھی تھے مگر مہ قع کی حیثیت سے لیکن ہاں تو یہ حال ہے کہ جنازہ بھی خلیفتہ المسیح پڑھائیں۔نکاح بھی خلیفتہ المسیح پڑھائیں۔کوئی عوت ہو تو اس میں بھی وہ ضرور شامل ہیں۔کوئی لیمہ ہو تو اس میں بھی ضرور شامل ہوں۔اسی طرح مبلغ کے جانے کی تعرب جوت وہ شامل ہوں اور آنے کی ہو لو تب بھی وہ شامل ہوں۔عرض خلفہ سے اتنے کاموں کی امید کی جاتی ہے کہ جس میں شامل ہونے کے بعد دین کی ترقی اور اس کے کاموں میں حصہ لینے کا اس کیلئے کوئی دقت ہی نہیں رہنا۔اور اس کا کام صرف اتاہی رہ جاتا ہے کہ دعوتیں کھائیں۔ملانوں کی טלי