مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 328

328 والے ہزاروں روپیہ ماہوار تنخواہ دے کر ایسے لوگوں کو ملازم رکھتے ہیں جو خوشبو سونگھ کر بتادیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں چیزیں پڑی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ کسی ایک کار خانے کی خوشبو مشہور ہو جاتی ہے۔اب دوسرے لوگ چاہتے ہیں کہ اس کی نقل کریں اور ویسی ہی خوشبو خود بھی تیار کریں۔اس غرض کے لئے وہ ماہرین کو ملازم رکھتے ہیں۔وہ لوگ ان خوشبوؤں کو سونگھ کر جن کی نقل تیار کرنی ہو بتادیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں چیزیں پڑی ہیں۔اس میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔مگر بہر حال انہیں خوشبو کی بنیادی اشیاء معلوم ہو جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ اسی بنیاد پر خود بھی ویسی ہی خوشبو تیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کی مزے کی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے اور یہ حس بھی بہت حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔کئی لوگ ایسے موجود ہیں جو دوائیاں چکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں دوائیاں پڑی ہیں۔قصہ مشہور ہے کہ ایک طبیب کی کسی دوائی کا بہت شہرہ ہو گیا مگر وہ اس دوائی کا نسخہ کسی کو نہیں بتا تا تھا۔اسی زمانہ میں ایک اور مشہور طبیب تھا۔جس کی مزے کی حس بہت تیز تھی اور وہ چیکھ کر بتا سکتا تھا کہ اس میں فلاں فلاں دوائیاں پڑی ہوتی ہیں۔مگر اس طبیب کو وہ دوائی ملتی نہیں تھی۔جو مریض اس طبیب کے پاس آتا اسے وہ اپنے سامنے دوائی کھلا دیتا تھا۔ساتھ دوائی نہیں دیتا تھا۔اب خوف سے کہ کہیں یہ دوائی دوسرے طبیب کے پاس نہ پہنچ جائے اور وہ اس کا نسخہ نہ معلوم کرلے۔اس طبیب نے بڑی کوشش کی کہ کہیں سے دوائی مل جائے مگر نہ ملی۔آخر وہ مریض اور اندھا بن کر اس طبیب کے پاس گیا اور اپنی شکل میں بھی تبدیلی کرلی۔سر پر ایک بڑا سا کپڑا لپیٹ لیا اور اندھا اور مریض بن کر اس کے پاس پہنچا اور اپنے مرض کی علامتیں و ہی بتائیں جن پر وہ دوائی استعمال کی جاتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں آگیا اور اس نے ایک گولی اسے دے دی۔اس نے وہیں گولی اپنے مونہ میں ڈال لی اور مونہہ میں ڈالتے ہی دواؤں کے نام گننے شروع کر دیئے۔یہاں تک کہ وہ ننانوے نام گن گیا۔جب نانوے نام گن چکا تو اس کا سانس ٹوٹ گیا۔طبیب کہنے لگا الحمد للہ کہ تمہیں سویں دوا کا پتہ نہیں لگا۔اس نسخہ میں سو دوائیاں پڑتی تھیں۔نانوے تم نے گن لیں۔سویں کا تمہیں پتہ نہیں لگ سکا۔اس لئے اب تم یہ نسخہ مکمل نہیں کر سکو گے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جن کے چکھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ولایت میں شراب کے جو کار خانے ہیں ان میں بعض دفعہ پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر ایسے لوگ ملازم رکھے جاتے ہیں جو شراب کو چکھ کر یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ شراب فلاں سن کی شراب کے مطابق ہے اور فلاں شراب کا ذائقہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے۔ہمارے ملک کی شراب تولسی دودھ اور شربت ہے اور ہمارے ملک نے اس میں کوئی خاص ترقی نہیں کی۔چاہے سو سال کے پرانے برتن میں ہی لسی کیوں نہ ہو وہ اسے پی جاتے ہیں اور انہیں ذائقہ میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو تا۔مگر ولایت میں پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر ایسے لوگ ملازم رکھے جاتے ہیں جو شرابوں کو چکھتے رہتے ہیں اور چکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس شراب کا مزہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے اور اس شراب کا مزہ فلاں سن کی شراب سے ملتا ہے۔۔بلکہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تنخواہ کا بھی میں نے کم حساب لگایا ہے۔میں نے پانچ پانچ