مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 327
327 مقابلہ میں اپنے نمائندے بھیجنے کے لئے مجبور کرنا چاہئے تاکہ تربیت کی طرف مجالس کو زیادہ سے زیادہ توجہ ہو۔میرے نزدیک تمام مشقوں میں سے ایک نہایت ہی اہم مشق جس سے دشمن کے مقابلے میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور جس کی طرف ہماری جماعت کے ہر فرد کو توجہ کرنی چاہئے۔جو اس خمسہ کو ترقی دینے کی کوشش ہے۔یہ ایک نہایت ہی اہم اور ضروری چیز ہے۔میں نے افسوس سے یہ امر سنا ہے کہ اس دفعہ وقت کی کمی کی وجہ سے اس قسم کے مقابلے کم رکھے گئے ہیں۔در حقیقت یہ توازن کی غلطی تھی ورنہ ان مقابلوں کے لئے زیادہ وقت مقرر کرنا چاہئے تھا۔مثلاً ناک کی جس ہے۔یہ ایک اعلیٰ درجہ کی حس ہے اور اس سے بڑے بڑے کام لئے جاسکتے ہیں۔ناک کی حس اگر تیز ہو تو اس سے صرف خوشبو اور بدبو کا احساس ترقی نہیں کرتا بلکہ یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ کس کس قوم میں کس کس قسم کی بو پائی جاتی ہے۔وحشی اقوام میں یہ حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ سونگھ کر بتا دیتی ہیں کہ یہاں سے فلاں قوم کا آدمی گزرا ہے۔مختلف قوموں میں خاص خاص قسم کی بو پائی جاتی ہے۔مثلاً مجھ پر یہ اثر ہے کہ میں جتنے انگریزوں سے ملا ہوں مجھے ان سے ایک قسم کی مچھلی کی بو آتی ہے۔اب اگر میرا یہ اثر صحیح ہو اور ہماری ناک کی جس تیز ہو تو خواہ ہماری آنکھیں بند ہوں ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی انگریز کھڑا ہے یا اگر ہمارے قریب سے کوئی انگریز گزرے گا ہم فورا پہچان جائیں گے کہ کوئی انگریز گزر رہا ہے۔اسی طرح افغانستان کے باشندوں میں میں نے محسوس کیا ہے کہ ان سے اس کھال کی سی جس پر برسات گزری ہو بو محسوس ہوتی ہے۔اب اگر میرا یہ خیال صحیح ہو یا پچاس فی صدی ہی درست ہو تو کسی علاقہ میں سے گزرتے ہوئے اگر وہاں چھان ہوں گے ہم فورا اپنی ناک کی جس سے پہچان لیں گے کہ یہاں پٹھان رہتے ہیں۔فرض کرو پٹھان ہمارے دوست ہیں اور جنگ کے موقعہ پر ہمیں ان کی امداد کی ضرورت ہے تو ہم اپنی اس ناک کی جس سے کام لے کر فورا اپنے دوستوں کو شناخت کرلیں گے اور ان کی مدد حاصل کرلیں گے۔اس قسم کی بو کا احساس، خصوصا بند کمروں میں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں جو زیادہ دیر تک رہتی ہے۔بعض دفعہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بھی کسی کمرہ میں آؤ اور تمہاری ناک کی جس تیز ہو تو تمہیں فورا پتہ لگ جائے گا کہ اس کمرہ میں کس قسم کے لوگ ٹھرے ہیں۔میں نے دیکھا ہے میرے کمرہ میں عطر پڑا ہوا ہو تا ہے اور بعض دفعہ میری بیویاں وہاں آکر عطر لگاتی ہیں تو بعض دفعہ گھنٹوں بعد جب میں اس کمرہ میں آتا ہوں تو فورا پہچان لیتا ہوں کہ کسی نے یہاں فلاں عطر لگایا ہے حالانکہ وہ عطر گھنٹوں پہلے لگایا گیا ہو تا ہے۔اسی طرح ہندوستانیوں اور انگریزوں کے عطر کی خوشبو میں فرق ہو تا ہے۔ہندوستانی عام طور پر دیسی عطر لگاتے ہیں مگر انگریز ہمیشہ الکوحل سیٹس لگاتے ہیں۔بعض ہندوستانی بھی اگر چہ اب میٹس لگانے لگ گئے ہیں مگر انگریز کبھی دیسی عطر نہیں لگاتے۔اب اگر کہیں سے ہمیں دیسی چنبیلی کے عطر کی خوشبو آئے یا دیسی گلاب کے عطر کی خوشبو آئے تو ہم فور افیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہاں سے کوئی ہندوستانی گزرا ہے۔اسی طرح اور بہت ی معلومات خوشبو کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں اور بعض لوگ تو اس جس کو ایسا تیز کر لیتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ولایت میں جو خوشبو کے کارخانے ہیں ان کا دار و مداد ہی ایسے لوگوں پر ہو تا ہے۔چنانچہ بعض کار خانوں