مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 307

307 زبان کی تائید میں استعمال کرتا ہے تو سامعین پر اس کا ضرور اثر ہوتا ہے۔اسی طرح وہ کبھی اپنے ہاتھ کو دائیں طرف جھٹکا دے دیتا ہے۔کبھی بائیں طرف جھٹکا دے دیتا ہے اور یہ جھٹکے اس کی لفظی زبان میں زیادہ زور پیدا کر دیتے ہیں۔یہی زبان مذاہب میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔مثلا نماز کو ہی لے لو۔اس میں لفظی زبان کے ساتھ تصویری زبان بھی شامل ہے۔ہماری غرض نماز میں یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم اپنی محبت اور اپنے عشق اور اپنے انکسار اور اپنے بجز کا اظہار کریں۔زبان سے جو الفاظ ہم نکالتے ہیں وہ ان ساری باتوں کو ادا کر رہے ہوتے ہیں۔جب ہم الخما لله رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين (الفاتحہ : ۲ تا ۴) کہتے ہیں تو یہ ہمارے اس سے تعلق کا اظہار ہوتا ہے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔تو ہی رحمن ہے۔بغیر مانگے اور طلب کئے تو ہم پر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے۔ہماری ضرورتیں تو ہی پورا کرنے والا ہے۔تو جب فیصلہ کرتا ہے تو نہایت سچا اور صحیح ہوتا ہے۔پھر ہم اس کے حضور اپنے بجز اور انکسار کے اظہار کے لئے ایاک نعبدو ایاک نستعين (الفاتحہ (۵) کہتے ہیں۔اس سے بڑھ کر بجز کا اور کیا اظہار ہو سکتا ہے کہ ہم کہتے ہیں ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔پھر اپنی درخواستیں پیش کرنے کے لئے اهدنا الصراط المستقيم ) صراط الذين انعمت عليهم (الفاتحہ : ۷۶) سے زیادہ اور کیا الفاظ ہو سکتے ہیں۔مگر جہاں ہم یہ الفاظ بیان کرتے ہیں وہاں ہم سینہ یا ناف پر ہاتھ بھی باندھتے ہیں جو ایک تصویری زبان ہے اور جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم مئودبانہ طور پر اور ملتجیانہ طور پر تیرے سامنے ایک سوالی کی حیثیت میں کھڑے ہیں۔اسی طرح ہم جب ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہتے ہیں تو وہ بھی ایک تصویر کی زبان ہوتی ہے۔ہم اپنے عمل سے اس وقت ظاہر کر رہے ہوتے ہیں کہ نماز کے علاوہ ہم کسی اور طرف توجہ نہیں کر رہے۔ہم اس وقت بالکل خاموش ہوتے ہیں۔کوئی شخص ہم سے بات کرے تو ہم اس کا جواب نہیں دیتے۔مگر پھر بھی تصویر کی زبان میں ہم اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب ہم ساری دنیا سے قطع تعلق کر چکے ہیں۔ہم رکوع میں اس کی تسبیح و تمجید کرتے اور اس کی عظمت بیان کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تمثیلی زبان میں ہم جھک بھی جاتے ہیں۔ہم سجدے میں جا کر خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور اس کی علوشان کا اقرار کرتے ہیں۔مگر ساتھ ہی تصویری زبان میں اس کے سامنے اپنا سر بھی رکھ دیتے ہیں۔ہم نہایت ہی لطیف الفاظ میں تشہد میں خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تمثیلی زبان میں اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتے ہیں۔غرض جو جو اغراض اور مقاصد ہم الفاظ میں بیان کرتے ہیں انھی کو ہم تمثیلی زبان میں تمثیلی زبان کی اہمیت بھی بیان کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہو تاہے کہ ہمارے مذہب نے بھی تمثیلی زبان کی اہمیت اور اس کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔دوسرے مذاہب میں بھی یہ بات اپنے اپنے رنگ میں پائی جاتی ہے بلکہ ہماری تمثیلی زبان سے بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔عیسائیوں میں اس حد تک غلو کرتے ہیں کہ وہ ایک خاص مقام خاص شکل کا بناتے ہیں۔جہاں پادری کھڑا ہوتا ہے ، وہاں شمعیں جلائی جاتی ہیں اور ان شمعوں کی تعداد