مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 306
306 دنیا میں دو قسم کی زبانیں بولی جاتی ہیں اور وہ دونوں زبانیں اپنی اپنی جگہ پر بہت بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ان میں سے ایک زبان تو لفظی ہوتی ہے اور ایک زبان تمثیلی ہوتی ہے۔اپنی اپنی جگہ پر ان دونوں کو اہمیت حاصل ہے اور در حقیقت ان دونوں زبانوں کے بغیر کوئی کام چل ہی نہیں سکتا۔لفظی زبان کے متعلق تو سب ہی جانتے ہیں کہ اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ہو تا۔کوئی عربی میں کلام کرتا ہے۔کوئی فارسی میں کلام کرتا ہے۔کوئی اردو میں کلام کرتا ہے۔کوئی انگریزی میں کلام کرتا ہے۔کوئی جرمن میں کلام کرتا ہے اور کوئی فرانسیسی زبان میں کلام کرتا ہے اور اس طرح تمام لوگ اپنے اپنے مافی الضمیر کو الفاظ میں ادا کرتے ہیں مگر باوجود اس لفظی زبان کے “ ہر زبان کے آدمی تمثیلی زبان کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔کبھی یہ تمثیلی زبان اخفاء کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔جیسے دو آدمی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور ایک تیسرا آدمی ان دو میں سے ایک کے ساتھ کوئی ایسی بات کرنا چاہتا ہے جو وہ دوسروں سے چھپانا چاہتا ہے اور وہ اسے کسی اشارے سے اپنے مافی الضمیر سے اطلاع دے دیتا ہے۔مثلاً اگر ان دو میں سے ایک شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ جس کام کے لئے اسے بلایا جارہا ہے اس کا کسی اور کو بھی علم ہو تو دو سرا آنے والا آدمی پشت سے اسے اشارہ کر دیتا ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ادھر چلو۔ادھر کا اشارہ وہ اس طرف انگلیاں کر کے کر دیتا ہے اور چلو کا اشارہ وہ ہاتھ کو حرکت دے کر کر دیتا ہے۔اب ہاتھ کو پیچھے کی طرف حرکت دینے کے معنے ہماری زبان میں یہ نہیں ہیں کہ پیچھے چلو۔مگر اس اشارہ سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ پیچھے کی طرف ہاتھ کو حرکت دینے کے معنے یہ ہیں کہ چلو اور جس طرف اشارہ کیا گیا ہے اس طرف اشارہ کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ادھر چلو۔اگر یہ زبان نہ ہوتی تو دوسرا شخص اختفاء سے کام نہ لے سکتا بلکہ اسے بلا کر لے جانا پڑتا جس سے دوسرے کے دل میں شبہ پیدا ہو تاکہ اسے نہ معلوم کس غرض کے لئے بلایا گیا ہے۔اسی طرح فوجوں میں یہ زبان کام آتی ہے۔فوجوں میں جھنڈیوں کے اشارہ سے لوگ اپنا مطلب بیان کر دیتے ہیں۔مختلف رنگ کی جھنڈیاں ہوتی ہیں اور مختلف تعداد اس کی حرکتوں کی مقرر ہوتی ہے جن سے مختلف مطالب بیان کئے جاتے ہیں یا شیشے پر روشنی ڈال کر اس کی چمک سے اطلاع دے دیتے ہیں۔اس کی چمک میں کوئی الفاظ نہیں ہوتے ہیں بلکہ انہوں نے بعض اشارے مقرر کئے ہوئے ہوتے ہیں کہ اتنی بار چمک کے یہ سننے ہیں۔اس رخ کی چمک کے یہ معنے ہیں اور اس رخ کی چمک کے یہ معنے ہیں۔یہ ایک ضرورت ہے جو جنگ کی حالت میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور اس غرض کے لئے فوجوں کو خاص طور پر ٹریننگ دی جاتی ہے۔یہی تصویری زبان ایک لیکچرار کے بھی کبھی کبھی کام تی ہے۔وہ تقریر کرتا ہے اور زور دار الفاظ اپنی تقریر میں لاتا ہے جس سے سامعین کو اپنے دلی خیالات سے واقف کرنا اس کا مقصود ہو تا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے دل میں اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے الفاظ کے ذریعہ میں ان پر اتنا اثر نہیں ڈال سکتا جتنا لفظی زبان کے ساتھ تمثیلی زبان ملا کر اثر ڈال سکتا ہوں۔چنانچہ اس غرض کے لئے وہ کسی وقت اپنے ہاتھ کو زور سے نیچے کی طرف جھٹک دیتا ہے۔اب اس کا تقریر کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو نیچے کی طرف جھٹک دینا بے کار نہیں ہو تا بلکہ اگر اچھا لیکچرار اچھے موقعہ پر اچھے طریق سے اس تمثیلی زبان کو اپنی لفظی