مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 291
291 اس بات کا بھی ایک حد تک دخل ہو تا ہے کہ بالعموم بڑے شہروں میں باہر سے جو تاجر سودا خریدنے کے لئے آتے ہیں وہ شہر کے خاص خاص حلقوں سے ہی سودا خریدنے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان حلقوں میں انہیں کسی چیز کے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کسی اور دوکان سے نہیں بلکہ فلاں دوکان سے ہی مل سکتی ہے تو اس اثر کے ماتحت جو اس حلقہ سے انہوں نے قبول کیا ہوا ہوتا ہے اسی دوکان پر چلے جاتے ہیں اور وہ دوکاندار زیادہ گراں قیمت پر ہر چیز فروخت کر کے نفع خود رکھ لیتا اور اصل قیمت مالکوں کو واپس کر دیتا ہے اور اس طرح تھوڑے دنوں کے اندر اندر پھر ہزاروں لاکھوں روپیہ کا مالک ہو جاتا ہے۔اسی طرح وہ بعض دفعہ کسی کو مٹی کے تیل کا ٹھیکہ دے دیتے ہیں۔بعض دفعہ کوئی اور چیز فروخت کرنے کے لئے دے دیتے ہیں اور باقی تمام قوم کے افراد سختی سے اس بات کی پابندی کرتے ہیں کہ خود اس چیز کو فروخت نہ کریں۔اب بظا ہر یہ ایک قربانی معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت یہ ہر ایک کے فائدہ اور ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔کسی کو کیا پتہ کہ کل اس کی کیا حالت ہو جائے اور اگر آج اس کا لاکھوں روپیہ کا کاروبار ہے تو کل اس کی تجارت گر جائے اور اس کی مالی حالت کمزور ہو جائے۔ایسی حالت میں یہی قانون اس کی ترقی کا بھی موجب بن سکتا ہے۔پس گو یہ ایک قربانی معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت سب کی ترقی کا ذریعہ ہے اور اس کا فائدہ کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام قوم کو پہنچتا ہے۔ہمارے قادیان میں صرف چند احمدی تاجر ہیں لیکن اگر یہاں اس طریق کو جاری کیا جائے تو میرا خیال ہے ان میں سے کئی برا منائیں گے اور کہیں گے کہ ہمارا نقصان کر دیا ہے حالانکہ اگر کل ان کی اپنی حالت خراب ہو تو ای قانون سے وہ خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بہر حال انہوں نے بتایا کہ اس دستور کی وجہ سے ہماری قوم گرتی نہیں بلکہ جب بھی کسی کو تجارت میں خسارہ ہوتا ہے، باقی قوم کے افراد کسی ایک چیز کے متعلق فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ ہم فروخت کر کے نفع نہیں اٹھائیں گے بلکہ اصل قیمت پر اپنے بھائی کے پاس فروخت کر دیں گے تاکہ نفع سے وہ اپنی حالت کو بہتر بنا سکے۔اس طرح نہ صرف ان کا بھائی ترقی کر جاتا ہے بلکہ ان کو بھی کوئی نقصان نہیں ہو تا کیونکہ اور بیسیوں چیزیں ان کی دوکان پر فروخت کرنے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔تو اخلاق اور اسلامی تعلیم پر عمل شروع میں کڑوا معلوم ہوتا ہے مگر ان چیزوں کا نتیجہ بڑا میٹھا ہو تا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاق میں تغیر پیدا کریں اور اپنی جوانی کو اسلام کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کریں۔اگر آج وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں گے۔اپنے اخلاق کو درست کریں گے اور اپنی جوانی کے ایام کو اسلامی تعلیم کے ماتحت بسر کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کا بڑھاپا نہایت خوبصورت ہو گا اور وہ اپنی عمر کے آخری