مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 290

290 آرام پہنچانا سمجھتا ہو ا سے جب خود کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو تمام لوگ اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں اور انہیں اس وقت تک اطمینان نہیں آتا جب تک اس کی تکلیف کو دور نہ کرلیں۔ہم نے دیکھا ہے جن قوموں میں قربانی کی روح ہوتی ہے وہ ایسا ہی کرتی ہیں اور اپنے بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کے ایثار سے کام لینے کے لئے تیار رہتی ہیں۔ہمارے بعض دوست ایک دفعہ بمبئی گئے اور وہ تبلیغ کے لئے بعض بوہرہ قوم کے تاجروں سے ملے تو دوران گفتگو میں ہمارے دوستوں نے ان سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے سب لوگوں کی مالی حالت اچھی ہے اور کسی کی تجارت گری ہوئی نظر نہیں آتی۔انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے جب کسی شخص کی تجارت گر جاتی ہے اور اس کی مالی حالت سخت کمزور ہو جاتی ہے تو ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ وہ ہماری پنچایت میں درخواست دیتا ہے کہ میری تجارت گر گئی ہے اور پنچایت والے کوئی ایک چیز فروخت کرنے کے لئے اسے دے دینے کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔مثلا دیا سلائی بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر پنچایت فیصلہ کر دے گی کہ تمام دیا سلائیاں اسے دے دی جائیں۔چنانچہ ہم میں سے جن جن تاجروں کے پاس دیا سلائیاں ہوں گی وہ اسے دے دیں گے اور کہیں گے کہ اتنی قیمت میں ہم نے دیا سلائیاں فروخت کرنی تھیں تم اس سے زیادہ قیمت پر دیا سلائیاں فروخت کر کے اصل قیمت ہمیں دے دینا اور نفع خود رکھ لینا۔اس فیصلہ کے مطابق تمام قوم اسے دیا سلائیاں دے دیتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد دوکان پر جب گاہک آتا ہے اور کہتا ہے کہ دیا سلائی چاہئے تو دوکاندار جواب دے دیتا ہے کہ دیا سلائی تو ختم ہو چکی ہے۔آپ کو اگر ملے گی تو فلاں سیٹھ کی دوکان سے ملے گی۔پھر وہ دوسری دوکان پر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ دیا سلائی چاہئے۔وہ دوکاندار بھی جواب دیتا ہے کہ دیا سلائی تو ختم ہو چکی ہے ہاں اگر آپ لینا چاہیں تو آپ کو فلاں سیٹھ کی دوکان سے ملے گی۔آخر اسی طرح دس ہیں دوکانوں پر وہ جاتا ہے اور جب کسی دوکان سے بھی اسے دیا سلائی نہیں ملتی تو اس پر اس بات کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اب مجھے دیا سلائی جس قیمت پر بھی مل جائے لے لینی چاہئے۔چنانچہ وہ اسی دوکان پر جاتا ہے جس کا سب نے اسے پتہ بتایا ہو تا ہے اور وہی دیا سلائی جو چار آنے گرس ہوتی ہے وہ دوکاندار چھ آنے گرس دیتا ہے اور خریدار اس قیمت پر بھی دیا سلائی کا میسر آنا غنیمت سمجھ کر خرید لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے یہاں سے بھی دیا سلائی نہ لی تو پھر مجھے کہیں سے نہیں ملے گی۔یہ فائدہ جو بو ہروں کو حاصل ہے در حقیقت انہیں اپنے جتھے کی وجہ سے حاصل ہے۔علاوہ ازیں اس میں