مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 284

284 نہیں ہو سکتی جو بے نماز ہے اور ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ ہم اس کے احمدیت سے خارج ہونے کا اعلان کر دیں گے۔مگر جو منتظم ہیں وہ بھی مجرم سمجھے جائیں اگر انہوں نے لوگوں کو نماز با جماعت کے لئے آمادہ نہ کیا۔وہ صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ ہم نے لوگوں سے کہہ دیا تھا۔اگر لوگ نماز نہ پڑھیں تو ہم کیا کریں۔خدا نے ان کو طاقت دی ہے اور ان کو ایسے سامان عطا کئے ہیں جن سے کام لے کر وہ اپنی بات لوگوں سے منوا سکتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ لوگ ان کی بات نہ مانیں۔وہ انہیں نماز با جماعت کے لئے مجبور کرسکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اخراج از جماعت کی رپورٹ کر سکتے ہیں اور مجھے ان کے حالات سے اطلاع دے سکتے ہیں۔بہر حال کوئی نہ کوئی طریق ہونا چاہئے جس سے ان لوگوں کا پتہ لگ سکے جو بظاہر ہمارے ساتھ ہیں مگر در حقیقت ہمارے ساتھ نہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایسے لوگ ہمارے ساتھ لٹکتے چلے جائیں اور اپنی اصلاح بھی نہ کریں۔اس کے نتیجہ میں اور لوگوں پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی نمازوں میں ست ہو جاتے ہیں۔میں آج سے خود اپنے طور پر بھی انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اس کام کی نگرانی کروں گا۔اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں بھی اپنے بچوں اور نوجوانوں اور عورتوں اور مردوں کو نماز باجماعت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہئے اور اگر اس بات میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ ہر گز اللہ تعالیٰ کے حضور سر خرو نہیں ہو سکتے چاہے وہ کتنے ہی چندے دیں اور چاہے کتنے ریزولیوشن پاس کر کے بھجوا دیں"۔(خطبه جمعه فرموده ۵ جون ۱۹۴۲ء مطبوعہ الفضل ۷ جون ۱۹۴۲ء)