مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 283
283 نماز باجماعت پڑھنے کی سخت تاکید ” میرے پاس شکایتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ نمازوں میں ست ہیں اور بالکل ہی نہیں پڑھتے۔میں اس نقص کو دیکھتے ہوئے خصوصیت سے قادیان کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ نماز کے متعلق ان میں سے ہر ایک شخص اپنے ہمسایہ کی اسی طرح جاسوسی کرے جس طرح پولیس مجرموں کی جاسوسی کا کام کیا کرتی ہے۔جب تک رات اور دن ہم میں سے ہر شخص اس طرف متوجہ نہ ہو کہ ہمارا ہر فرد خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا بچہ ہو یا جو ان نماز با قاعدگی کے ساتھ ادا کرے اور کوئی ایک نماز بھی نہ چھوڑے اس وقت تک ہم کبھی بھی اپنے اندر جماعتی روحانیت قائم نہیں کر سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں۔مثلاً میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ نمازوں کے وقت نمازوں کے وقت دکانیں بند ہونی چاہئیں دکانیں کھلی نہیں ہونی چاہئیں۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دکان کھلی بھی رہے اور پھر اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ نماز با جماعت بھی ادا کرتا ہے۔پس میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نمازوں کے وقت دوکانداروں کی نگرانی رکھیں اور جس شخص کی دکان کھلی ہو اس کی دکان پر نشان لگادیں اور اسی دن اس کی میرے پاس رپورٹ کریں۔اگر نمازوں کے وقت کوئی شخص اپنی دکان کو کھلا رکھتا ہے تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ اس کے دل میں نماز کا احترام نہیں۔اس وقت بہر حال ایک احمدی کہلانے والے کو اپنی دکان بند کرنی چاہئے اور نماز با جماعت کے لئے بیت الذکر میں جانا چاہئے۔اگر خطرہ ہو کہ دکانیں بند ہو ئیں تو کوئی دشمن نقصان نہ پہنچا دے تو ایسی صورت میں باری باری پہرے مقرر کر سکتے ہیں۔مگر یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ دکاندار اپنی دکانوں پر ہی بیٹھے رہیں اور نماز کے لئے بیت میں نہ جائیں۔پہرہ ایک قومی فرض ہے اور جب کوئی شخص پہرے پر ہو تو وہ اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے، نماز کا تارک نہیں سمجھا جاتا لیکن بغیر اس کے اگر کوئی شخص بیت میں نہیں جاتا تو وہ نماز کا تارک ہے۔پس آج سے میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ وہ قادیان : رہی مجرم اور قومی مجرم میں اس امر کی نگرانی رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے۔میں اس کے بعد ان لوگوں کو مذہبی مجرم سمجھوں گا جو نماز باجماعت ادا نہیں کریں گے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔ہم پر اس شخص کی کوئی ذمہ داری