مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 239
239 ہے کہ مرنے کے بعد اس کا کوئی صلہ انہیں ملے گا۔سو میں سے ایک بھی اس بات کا قائل نہ ہو گا۔مگر پھر بھی دیکھو لوگ کس طرح جانیں دیتے ہیں۔پس یہ خیال بالکل غلط ہے کہ مومن کی قربانی صلہ کے لالچ کی وجہ سے ہوتی ہے۔انبیاء کے ابتدائی زمانہ میں تو صلہ کی امید کا خیال بھی غلطی ہے۔اس لئے یہ زمانہ قربانی کے لئے بہترین زمانہ ہوتا ہے۔دوسروں کی قربانیاں ملک و قوم کے لئے ہوتی ہیں۔مگر ان کی قربانیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم نے ملک کے لئے قربانیاں کیں اور تم جانتے تھے کہ تمہارا ملک شوکت و عظمت رکھتا ہے ، اس کے لئے قربانی تمہارے لئے عزت کا موجب ہے۔قوم کے لئے قربانی بھی عزت کا موجب ہے۔جو لوگ قوم کے لئے مرجاتے ہیں ان کی کس قدر عزت ہوتی ہے۔ایسی موت تو آدمی کو قومی لیڈر بنا دیتی ہے۔ایسے لوگوں کی اولاد کے لئے بھی ترقی یافتہ قومیں انتظام کرتی ہیں۔اور ایسے لوگوں کو یہ تو اطمینان ہوتا ہے کہ ہماری اولاد خراب نہ ہوگی۔سینکڑوں واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ کسی سے کسی کی دشمنی ہوتی ہے مگر وہ کسی چوہڑے وغیرہ سے اپنے دشمن کو قتل کرا دیتا ہے۔زمیندار کہتا ہے کہ فلاں آدمی کو مار ڈالو۔اول تو میں تمہیں مقدمہ سے بچانے کی کوشش کروں گا لیکن اگر سزا پا جاؤ گے تو تمہارے بیوی بچوں کے گزارہ کا انتظام کر دوں گا۔وہ سمجھتا ہے کہ اول تو ضروری نہیں کہ میں پکڑا جاؤں اور اگر پکڑا جاؤں تو سزا بھی پا جاؤں اور اگر سزا بھی ہو جائے تو کیا ہے ؟ بیوی بچے تو آرام سے گزارہ کریں گے اس لئے اس لالچ میں آ کر وہ یہ فعل کر لیتا ہے۔پس لوگ ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگ ملک و قوم کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔مگر ان کو اپنی اس قربانی کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اس کا صلہ ان کو یا ان کے بیوی بچوں کو ملے گا اور ایسی قربانیاں مشکل نہیں۔لیکن دین کے لئے آج قربانی کرنا مشکل ہے کیونکہ موجودہ حالات میں یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔اس رستہ پر چلنا ایسا ہی ہے جیسے انسان دریا کے ایسے کنارے پر چلے جو اندر دھنستا جا رہا ہو اور گرتا جاتا ہو۔ظاہر ہے کہ ایسے کنارے پر کوئی ظاہر بین کبھی عمارت نہیں بنایا کرتا۔کیونکہ در یا کاپانی وہاں غار بنا رہا ہو تا ہے۔ایسی جگہ عمارت بنانا کسی ہمت والے کا ہی کام ہے۔پس یہی وقت قربانی کا ہے۔جو نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں۔چاہئے کہ ان کا اخلاق اور عملی نمونہ اچھا ہو اور وہ پختہ عزم کر کے آئیں۔میری غرض ان واقفین سے یہ ہے کہ ان میں سے ہی قاضی تیار کروں۔ان میں سے ہی مفتی تیار کروں اور ان میں سے ہی مدرس ہوں اور ان میں سے ہی مربی اور تعلیم و تربیت دینے والے ہوں۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جو نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں۔وہ اخلاقی طور پر اپنے آپ کو مفید وجود بنائیں۔جب ان میں سے کسی کو قاضی بنایا جائے تو وہ ایسا نمونہ دکھائے کہ لوگ تسلیم کریں کہ وہ انصاف سے کام کرتا ہے۔جب کسی کو مفتی بنایا جائے تو لوگ محسوس کریں کہ اس نے جو فتوی دیا ہے ، صحیح ہے اور جب کوئی مربی بنے تو لوگ محسوس کریں کہ وہ جو بات بھی کرتا ہے خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر کرتا ہے نہ کہ دشمن کو زیر کرنے کے لئے۔یہ نہ ہو کہ وہ نفسانی رو میں بہہ جائے۔دراصل تمسخرو ہی کرتا ہے جو دلیل نہیں دے سکتا۔یہ چیز اس کی علمی