مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 238

238 نوجوان اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کریں اور ثواب کے اس غیر معمولی موقعہ سے فائدہ اٹھا ئیں۔یوں تو اللہ تعالی کے فضلوں کے دروازے ہمیشہ ہی کھلے رہتے ہیں۔مگر انبیاء کے زمانہ میں ایسے کھلتے ہیں کہ دو سرے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔انبیاء کے زمانہ میں غیر معمولی طور پر یہ دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اس زمانہ کی قربانیاں بہت قیمت رکھتی ہیں۔مسلمانوں میں ایسے بادشاہ بھی گذرے ہیں جنہوں نے بادشاہتیں ترک کر دیں اور فقیر ہو گئے۔مگر اکثر لوگ ان کے نام سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔لیکن حضرت ابو بکر اور عمر نے ہزار دو ہزار روپے کی جائدادیں دیں اور سب لوگ اس قربانی سے واقف ہیں۔مالی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ان سے بہت زیادہ قربانیاں کرنے والے بھی موجود ہیں۔مگر ان کی وہ قدر و منزلت نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے حالات میں بڑا فرق ہے۔جسب بعض بادشاہوں نے بادشاہتیں چھوڑیں۔تو اس وقت مسلمان بادشاہ تھے اور بادشاہت چھوڑنے والے یہ جانتے تھے کہ ہماری اس قربانی سے ہماری قوم نقصان کو نہیں پہنچے گی۔لیکن حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے جب قربانی کی تو جانتے تھے کہ بظا ہر وہ اپنا اور اپنی اولاد کا خون کر رہے ہیں۔اسی طرح آج جو نوجوان سلسلہ کے لئے زندگی وقف کرتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایسا شخص جو تیرنا نہ جانتا ہو ، سمندر میں کو دپڑتا ہے۔اس وقت چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں اور اس لئے دین کا کام کرنا بڑی بہادری کی بات ہے۔بزدل تو سمجھے گا کہ میں مارا جاؤں گا۔مگر جس کے دل میں ایمان ہے اور جرات ہے وہ سمجھتا ہے میں سمندر میں گر کر ہلاک نہیں ہو رہا بلکہ حفاظت اسلام کی مضبوط عمارت کی بنیادی اینٹ بن رہا ہوں۔اس لئے اس کی یہ قربانی اپنے ساتھ ایسی برکات رکھتی ہے جس کا مقابلہ کوئی دوسری قربانی نہیں کر سکتی۔کون شخص ہے جو آج اسے عقلمند کے گا جو احمدیت کے لئے قربانی کرتا ہے۔اس وقت تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ چند پاگل لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں ، دنیا کا مقابلہ کرلیں گے۔لیکن مومن سمجھتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک آواز آئی ہے۔جس کا میں جواب دے رہا ہوں۔یہ تو علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کامیابی کا وعدہ دیا گیا ہے۔لیکن اگر یہ وعدہ نہ بھی ہو تو بھی میرا فرض ہے کہ اس آواز پر لبیک کہوں۔دنیا میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کے لئے مرجاتی ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بچہ بیمار ہوا۔ماں اس کی تیمار داری کرتی رہی۔بچہ تو صحت یاب ہو گیا مگر ماں مرگئی۔کیا یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ماں کو اس خدمت کے صلہ کی امید ہوتی ہے۔ہر گز نہیں۔اور جب ایک ماں اپنے بچے کے لئے بغیر کسی صلہ کے لالچ کے جان دے سکتی ہے۔تو کیا مومن ہی خدا تعالیٰ کے لئے کسی بدلہ کے خیال کے بغیر قربانی نہیں کر سکتا۔پس یہ غلط ہے کہ مومن اس لئے قربانی کرتا ہے کہ اسے قوم کے لئے قربانی بھی عزت کا موجب ہے ترقیات کی امید ہوتی ہے۔اگر ترقیات کے وعدے نہ ہوتے۔فرض کرو حیات بعد الموت نہ ہو۔جنت دوزخ بھی نہ ہو تب بھی مومن خد اتعالیٰ کے لئے قربانی کرنے میں کبھی تامل نہ کرے گا۔عام لوگ جو قوم کے لئے قربانیاں کرتے ہیں یا ملک کے لئے کرتے ہیں۔کیا ان کو یقین ہو تا