مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 220
220 ہیں اور جن کی نگاہ میں خدا تعالیٰ میں بھی عیب ہی عیب ہوں ان کے نزدیک اس کے انبیاء کب عیوب سے پاک سمجھے جاسکتے ہیں۔پس میں ایسے شقی القلب لوگوں کا ذکر نہیں کرتا وہ انسانیت سے دور چلے گئے اور انصاف کا دامن انہوں نے چھوڑ دیا۔میں صرف شریف الطبع لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی نگاہ میں چند منافقوں کے پائے جانے کی وجہ سے ہماری جماعت بد نام نہیں ہو سکتی۔چنانچہ دیکھ لو باوجود اس کے کہ ہماری جماعت میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو ست ہیں۔مگر پھر بھی غیر احمدی شرفاء یہی کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سے بڑھ کر دین کی خدمت کرنے والی اور کوئی جماعت نہیں۔اسی طرح احمدیوں میں بعض بے نماز بھی ہوتے ہیں مگر وہ نہیں کہتے کہ احمدیوں میں سو میں سے ایک یا دو بے نماز ہیں بلکہ لوگوں کا سمجھدار اور شریف الطبع طبقہ یہی کہتا ہے کہ احمدی بڑے نمازی ہوتے ہیں۔اسی طرح سارے احمدی تو با قاعدہ چندے نہیں دیتے کچھ لوگ ست بھی ہیں مگر تم شریف الطبع لوگوں سے یہی سنو گے کہ احمدی بڑا چندہ دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کی اکثریت نیکی پر قائم ہے اور وہ بعض افراد کی کمزوری کو دیکھ کر ساری جماعت پر الزام عائد نہیں کرتے۔مگر وہ لوگ جو اپنے اندر شرافت نہیں رکھتے ، وہ کسی ایک کمزور احمدی کو دیکھ کر ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ احمدی بے نماز ہیں یا احمدی چندوں میں ست ہیں۔بے شک ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم جماعت کی ایسی تربیت کریں کہ اس میں ایک شخص بھی ایساد کھائی نہ دے جو چندہ نہ دیتا ہو۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو نماز کا پابند بنائیں اور اس قدر کوشش کریں کہ ایک بھی بے نماز نہ رہے اور اس مقصد کے لئے میں اگر کوئی خطبہ پڑھوں اور جماعت کو بیدار کرنے اور اس کی قوت عملیہ میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کروں تو یہ کوئی معیوب بات نہیں۔بلکہ اچھی بات ہے۔کیونکہ ایک خرابی بھی ہم میں کیوں موجود رہے۔لیکن اس نیکی کو سو فیصدی مکمل کرنے کے لئے ہم اپنی طرف سے جو کوشش کریں اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ ہماری جماعت میں نیکی ہی نہیں۔نیکی تو موجود ہے اور جماعت کی اکثریت میں موجود ہے مگر اسے تمام پہلوؤں سے مکمل کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وقتا فوقتا بعض کمزور لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جائے۔غیر احمدیوں سے ہی پوچھ کر دیکھ لو۔جہاں جہاں احمدی موجود ہیں وہ ان کے متعلق یہی رائے دیں گے کہ احمدی بڑے بچے ہوتے ہیں۔احمدی بڑے نیک ہوتے ہیں۔احمدی بڑے نمازی اور خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کرنے والے ہوتے ہیں۔حالانکہ ان احمدیوں میں کمزور بھی ہوتے ہیں۔لیکن شریف الطبع لوگوں کا یہی دستور ہے کہ وہ اکثریت کی نیکی کا ذکر کرتے ہیں اور بعض افراد کی کمزوری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کا نمونہ ایسا ہی ہو گا اور جیسا کہ میرے پاس رپورٹیں پہنچتی رہی ہیں ان میں سے غالب اکثریت نے اس تنظیم میں اپنے آپ کو شامل کر لیا ہے۔لیکن میں دوستوں سے یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ محض ظاہری شمولیت کافی نہیں جب تک وہ عملی رنگ میں بھی کوئی کام نہ کریں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ