مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 219
219 منافق اپنے اخلاق میں کم ہوتے چلے گئے۔پس کوئی ایسا ظاہری فرق نہیں جس کی بناء پر ایک کو ہم صحابی کہیں اور دوسرے کو نہ کہیں۔سوائے اس کے کہ ایک نے اپنی منافقت کے اظہار سے بتایا کہ وہ صحابی کہلانے کا مستحق نہیں اور دوسرے نے اپنے ایمان اور اخلاص کے اظہار سے بتا دیا کہ وہ صحابی کہلانے کا مستحق ہے۔ورنہ ظاہری طور پر ہے۔منافق بھی نمازوں میں شامل ہو جاتے تھے اور منافق بھی صحابہ کے ساتھ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوتے تھے۔چنانچہ صریح طور پر حدیثوں میں آتا ہے کہ بعض غزوات میں منافق بھی شامل ہوئے۔غزوہ تبوک میں بھی بعض ایسے شقی القلب اور منافق لوگ تھے جو آگے بڑھ کر راستہ میں اس لئے چھپ کر بیٹھ گئے تھے کہ اگر رسول کریم۔اکیلے آتے ہوں تو آپ کو قتل کر دیں اور وہ غزوہ تبوک میں صحابہ کی صف میں شامل ہوئے۔مگر باو بنو د اس کے صحابہ کی تعریف میں کوئی کمی نہیں آتی۔ان کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا اور ہر مسلمان کا دل صحابہ کی محبت اور ان کی تعریف سے لبریز ہو تا ہے۔کیونکہ منافقوں کی تعداد اتنی قلیل اور صحابہ کی تعداد اتنی کثیر تھی اور پھر صحابہ اپنے اخلاص اور اپنی محبت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ منافق پیٹھ کے پیچھے چھپے ہوئے ایک داغ یا انگلی کے ایک مسہ سے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتے تھے اور ایسا داغ یا مہ کسی حسین کے حسن میں کوئی فرق نہیں لایا کرتا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اس قسم کے لوگ تھوڑے ہوں گے۔کیونکہ خدا نے ہماری جماعت کو صحابہ کے نقش قدم پر بنایا ہے اور یقینا ہم میں منافقوں کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ وہ جماعت کے لئے کسی صورت میں بھی بدنامی کا موجب نہیں ہو سکتے۔بے شک میں جماعت کو اور زیادہ پاک کرنے ، اسے روحانی ترقی کے میدان میں پہلے سے اور زیادہ قدم آگے بڑھانے اور اسے اپنے جسم پر سے معمولی سے معمولی دھبے اور داغ دور کرنے کی ہمیشہ تلقین کیا کرتا ہوں اور جماعت کو اپنے خطبات کے ذریعہ ہمیشہ نصیحت کرتا رہتا ہوں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جماعت کے معتد بہ حصہ میں نقص پائے جاتے ہیں یا جماعت ان کمزوروں کی وجہ سے بد نام سمجھی جا سکتی ہے۔معتر نین کی نگاہ میں تو جماعت ہر وقت بد نام ہی ہوتی ہے اور جو شخص اعتراض کرنے پر ایک دفعہ مل جائے وہ بہانے بنا بنا کر اعتراض کیا کرتا ہے۔مگر ان کی نگاہ میں جماعت کی جو بدنامی ہوتی ہے وہ شرفاء کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔پس جب میں کہتا ہوں کہ جماعت ان لوگوں کی وجہ سے بد نام نہیں ہو سکتی تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ شرفاء کے طبقہ میں جماعت بد نام نہیں ہو سکتی ورنہ مخالف کی نگاہ میں تو ہم ہمیشہ بد نام ہی ہیں۔خواہ ہم میں بعض کمزور افراد ہوں یا نہ ہوں اور دراصل ایسے لوگوں کی نگاہ میں تو محمد رسول اللہ ملی یا یہ بھی بدنام ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بدنام ہیں اور اسی طرح اور تمام انبیاء اور مامورین بد نام ہیں۔بلکہ انبیاء تو کیا ان کی نگاہ میں خدا تعالیٰ بھی بد نام ہے۔تم بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر دیکھ لو۔وہ ہمیشہ اس قسم کے سوالات کرتے ہوئے دکھائی دیں گے کہ خدا نے اس دکھ کی دنیا میں ہمیں کیوں پیدا کیا۔پھر وہ برملا کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ خدا قحط ڈالتا ہے۔وہ بیماریاں پیدا کرتا ہے۔وہ زلزلے بھیجتا ہے۔وہ ظلم کرتا ہے۔وہ امن برباد کرتا ہے۔غرض لوگ تو کہا کرتے ہیں "پانچوں عیب شرعی مگر ان کے نزدیک سینکڑوں عیب خدا تعالیٰ میں پائے جاتے