مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 215
215 ادفی حرکت کا کام جس میں جسمانی محنت سب سے کم برداشت کرنی پڑتی ہے ، دعا ہے۔ہاں بعض کے کام بالواسطہ بھی ہوتے ہیں جیسے پاگل نہ دعا کر سکتے ہیں اور نہ کچھ اور کام کر سکتے ہیں۔ایسے لوگ صرف عبرت کا کام دیتے اور لوگ انہیں دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔مگر ایسا معذور میرے خیال میں قادیان میں کوئی نہیں۔نیم فاتر العقل و چار ضرور ہیں۔مگر پورا پاگل میرے خیال میں کوئی نہیں۔لیکن یہ لوگ بھی اتنا کام تو ضرور کر رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے عبرت کا موجب بنے ہوئے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اپنے مقام کو سمجھتے ہوئے ایسے رنگ میں کام کریں گے کہ ان میں سے کوئی بھی باغیوں کی صف میں کھڑا نہیں ہو گا۔اگر کوئی شخص ان مجالس میں سے کسی مجلس میں بھی شامل نہیں ہو گا تو وہ ہر گز جماعت میں رہنے کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔پس ان مجالس میں شامل ہو نادر حقیقت اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا عملی رنگ میں اقرار کرنا ہے۔جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر عائد ہیں اور خدا اور اس کے رسول نے جو احکام دیئے ہیں ان کے نفاذ او را جراء میں حصہ لینا صرف میرا فرض نہیں بلکہ ہر شخص کا فرض ہے۔آخر میں نے (نعوذ باللہ ) محمد رسول الله ل ل ا ل ل ویلی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تھا۔نہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو (نعوذ باللہ ) رسول کریم میل یا اللہ کا آخری مظہر بنا کر بھیجا۔نہ صحابہ کو میں نے بنایا اور نہ تم کو میں نے بنایا۔یہ خدا کا کام ہے۔جو اس نے کیا۔میرا کام تو ایک مزدور کا سا ہے اور میرا فرض ہے کہ خدا نے جس فقرہ کو جہاں رکھا ہے وہاں اس کو رکھ دوں۔پس میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ میں وہی کچھ کہتا ہوں جو خدا نے کہا۔اگر کوئی شخص اسے تسلیم نہیں کرتا تو اسے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بات خدا نے نہیں کی ورنہ وہ میرا انکار نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کا انکار کرتا ہے۔(خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ جولائی ۱۹۴۰ء مطبوعہ الفضل یکم اگست ۱۹۴۰ء)