مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 205

205 جھوٹ ہی بول رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مہینہ میں دو دن دکان بند کرنے کے لئے تو تیار نہ ہو اور وہ جہاد کے لئے سال میں سے آٹھ ماہ گھر سے باہر رہ سکتا ہو۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس زمانہ میں کس قسم کے جہاد کی ضرورت ہے۔خدا کا کام ہے اور یہ خدا کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو ہمارے ہاتھ میں تلوار دے دے چاہے تو قلم دے دئے۔اور چاہے تو تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا جہاد مقرر کر دیے اور اللہ تعالیٰ نے اس تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا جہاد زمانہ میں تلوار کا جہاد نہیں رکھا بلکہ تبلیغ اور تعلیم و تربیت کا جہاد رکھا ہے اور یہی وہ جہاد ہے جس کا سورہ جمعہ کی ان آیات میں ذکر ہے جن میں رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ خلوا عليهم آیتہ میں ہر مومن کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے نشانات الہیہ کو بیان کرے یعنی انہیں تبلیغ کرے۔میرسیم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ انہیں پاک کرے یعنی ھم دعاؤں کے ذریعہ تزکیہ نفوس کرے یا یزکیھم کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگوں کو بڑھائے۔اگر وہ دنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میدان میں ان کو آگے لے جائے۔تعداد میں کم ہوں تو تعداد میں بڑھائے۔مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھائے۔غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو انہیں بڑھاتا چلا جائے۔گویا لوگوں کی مالی اور اقتصادی ترقی میں حصہ لے۔يعلمهم الکتب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کو قرآن سکھائے۔کو الححمہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ احکام شریعت کی حکمتوں اور ان کے اسرار سے لوگوں کو آگاہ کرے۔اس آیت کے اور بھی معنی ہیں جن کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی اس تقریر میں بیان کیا ہوا ہے جو خلافت کے آغاز میں میں نے کی تھی اور جو " منصب خلافت" کے نام سے چھپی ہوئی ہے۔لیکن یہ پانچ موٹی موٹی باتیں ہیں۔ا۔تبلیغ کرنا۔۲۔قرآن پڑھانا۔۳۔شرائع کی ظلمتیں بتانا۔۴۔اچھی تربیت کرنا۔۵۔قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کر کے انہیں اسے ترقی کے میدان میں بڑھانا۔رض یہ پانچ ذمہ داریاں صحابہ پر تھیں اور یہی صحابہ کے پانچ کام جنہیں ہمیں بھی سرانجام دینا ہے پانچوں ذمہ داریاں ہم پر عائد ہیں۔تبلیغ ہمارے ذمہ ہے۔تعلیم ہمارے ذمہ ہے۔احکام کی حکمتیں بتانا ہمارے ذمہ ہے اور جماعت کی مالی اور اقتصادی حالت کی درستی اور اس کی پستی کو دور کرنا ہمارے ذمہ ہے۔اگر ہم یہ پانچ کام نہیں کرتے تو ہم جھوٹے اور کذاب ہیں اگر ہم اپنے آپ کو کہتے ہیں۔انہی کاموں میں سے ایک کام کے متعلق میں نے کچھ عرصہ ہوا قادیان کی جماعت کو توجہ دلائی تھی اور میں نے کہا تھا کہ کم سے کم قادیان میں کوئی ان پڑھ نہیں رہنا چاہئے۔مگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے رپورٹ ملی ہے کہ جہاں باقی سب محلوں نے کام ختم کر لیا ہے وہاں بیت فضل سے تعلق رکھنے والے تعاون نہیں کر رہے ( اس سے مراد دار الفضل والے نہیں بلکہ وہ محلہ ہے جسے محلہ آرائیاں بھی