مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 131

131 بڑھائے۔دنیا میں ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے ہیں جن کی زندگی کا دارومدار اور انحصار ہی تعلق باللہ پر ہوتا ہے اور پھر ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا اسی تعلیم پر یقین ہوتا ہے۔لوگوں نے کس طرح کو ششیں کیں کہ ان کو اس راستہ سے ہٹا دیں مگر کیا انہوں نے اس کو چھوڑا؟ ان کو طرح طرح کے عذاب دیئے گئے دکھ پہنچائے گئے مگر انہوں نے اپنا راستہ نہ چھوڑا کیونکہ ان کا یہی عقیدہ تھا کہ تمام عزت اور راحت اسی سے ہے۔اسی طرح جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اس کی ساری عزت و راحت دولت جمع کرنے میں ہے خواہ کتنی کوشش کی جائے وہ دولت جمع کرنا کبھی نہیں چھوڑے گا۔دو سری طرف جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں دولت کمانے سے منع نہیں کیا گیا۔قرآن کریم میں مومن اور خالص مومنوں کے لئے بعض احکام ہیں اور ان میں ڈھیروں ڈھیر مال کا ذکر ہے چنانچہ حکم ہے کہ اگر کسی نے بیوی کو ڈھیروں ڈھیر مال بھی دیا ہو تب بھی یہ جائز نہیں کہ طلاق دیتے وقت اسے واپس لے اور ظاہر ہے کہ ڈھیروں ڈھیر مال کسی کے پاس ہو گا تو دے گا۔نہیں تو کہاں سے دے گا۔کنگال آدمی ڈھیروں ڈھیر مال کہاں سے دے سکتا ہے۔اگر دولت کمانا منع ہو تا تو ایسی مثالیں بھی قرآن کریم میں نہ ہو تیں۔پھر قرآن کریم میں زکوۃ کا حکم ہے جو مال پر ہی دی جاتی ہے۔پھر تقسیم ورثہ کا حکم ہے۔اگر دولت کمانا جائز نہ ہو تا تو تقسیم ورثہ کا حکم ہی نہ ہوتا اور اسی طرح صدقہ خیرات کے حکم بھی قرآن کریم میں نہ ہوتے۔اگر یہ احکام یونسی تھے تو یہ کیوں نہ بتایا کہ اگر کسی کے گھر میں شراب کا مٹکا ہے تو اسے یوں تقسیم کیا جائے یا یہ کہ کسی مسلمان کے گھر میں سور کا گوشت ہو تو اسے یوں تقسیم کیا جائے۔اسلام میں دولت کمانا منع نہیں۔اس دولت کے فائدہ سے لوگوں کو محروم کرنا پس اگر دولت کمانا اسلام میں منع ہو تا تو ایسے احکام بھی نہ ہوتے۔اسلام نے دولت کمانے ناپسندیدہ ہے۔سے منع نہیں کیا بلکہ جس چیز سے منع کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اس دولت کو محفوظ کر کے ایسے رنگ میں رکھ لیتا ہے کہ دنیا کو اس کے فائدہ سے محروم کر دیتا ہے۔روپیہ کو بنکوں میں جمع رکھا جاتا ہے یا خزانوں میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس طرح خود تو اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے مگر وہ دولت دوسروں کے کام نہیں آسکتی۔جس چیز سے اسلام روکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح دولت کو محفوظ نہ کرلو کہ دوسرے اس کے فائدہ سے محروم رہ جائیں اور یہ کہ سود نہ لو کیونکہ اس سے دولت چند لوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے اور باقی لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔جس دولت سے دنیا کو فائدہ پہنچے اس سے اسلام نے نہیں روکا۔جس کا فائدہ صرف مالک کو ہو اس سے روکتا ہے۔جو لوگ سود پر روپیہ لیتے ہیں لوگ ان کو کروڑوں روپیہ دیتے ہیں کہ نفع ملے گا۔اس طرح وہ