مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 135

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 135 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی دلانے پر خدام الاحمدیہ یو کے نے اسلام آباد میں گھاس کی کننگ اور پھول پودوں کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔6۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اطفال اور ناصرات کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ وقف جدید کی زیادہ سے زیادہ مدد کریں، اس لئے انہیں زیادہ سے زیادہ وقف جدید میں حصہ لینا چاہئے۔اطفال اور ناصرات کے چندوں کے اعتبار سے اول، دوم اور سوم معیار مقرر کریں۔ننھے مجاہد کیلئے بیس یورو چندہ کم ہے اس کا معیار کم از کم پچاس یورو ہونا چاہئے۔بچوں کے کھانے پینے اور جیب خرچ کا حساب کر کے جائزہ لیں کہ بچے کتنا ادا کر سکتے ہیں۔7۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی نہ کوئی کتاب یا حضور اقدس کے کچھ اقتباس تعلیم کے نصاب میں ضرور رکھیں اور اس کورس کو امتحان میں بھی شامل کریں۔8۔جو افراد وصیت کرتے ہیں، ان سے مل کر یہ جائزہ لیں کہ اس نظام میں شمولیت کے بعد ان کی طبیعت، تربیت اور جماعتی تعاون میں کیا فرق پڑا ہے۔پھر ان باتوں سے دوسرے خدام کو آگاہ کر کے انہیں بھی اس نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔9 کسی خادم کو فارغ نہیں رہنا چاہئے ، پڑھائی کرے یا کام کرے خواہ مثال ہی لگائے ، بہر حال کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہئے۔10۔جس طرح مختلف کمپنیاں اپنے اشتہارات کمپیوٹر کے ذریعہ بھجواتی ہیں اور وہ خود بخود آپ کے پرنٹر میں پرنٹ ہو کر نکل آتے ہیں، جائزہ لے کر جماعتی تعلیمات اور جماعت کا تعارف لوگوں تک پہنچانے کیلئے اس قسم کے پروگرام بنائیں۔اس بارہ میں اچھی طرح معلومات حاصل کر لیں کہ آپ کا بھجوایا ہوا جماعتی لٹریچر رد و بدل سے محفوظ رہے نیز یہ کام خلاف قانون نہ ہوتا جماعت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہو سکے۔11۔دنیا میں پڑھنے کا رواج کم ہو چکا ہے اس لئے جماعتی تعلیمات پر مبنی سی ڈی وغیرہ تیار کریں جو لوگ سفر کے دوران اپنی گاڑیوں میں سن سکیں یا اپنے گھروں میں سن سکیں۔12۔جو خدام نمازیں نہیں پڑھتے تھے، توجہ دلانے پر پڑھنے لگے، اس کے نتیجہ میں ان میں جو تبدیلی آئی، جو انقلاب آیا، طبیعت میں جو فرق پڑا اور اس کا جو فائدہ ہوا، اس سے دوسرے خدام کو آگاہ کریں تا کہ