مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 102
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 102 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اپنی بخشش کے سامان نہ کروائے۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب قول رسول اله رغم انف رجل) آپ سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔پھر پوچھنے والے نے پوچھا، سب سے زیادہ حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔پھر تیسری دفعہ پوچھا آپ نے فرمایا تیری ماں اور چوتھی دفعہ پوچھنے پرفرمایا تیرا باپ۔( بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة ) تو اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ماں باپ کے احسانوں کا ایک انسان بدلہ نہیں اتار سکتا لیکن دعا اور حسن سلوک ضروری ہے۔اس سے کچھ حد تک آدمی اپنے فرائض کو ادا کر سکتا ہے اور اسی سے بخشش ہے۔اس ضمن میں ایک بات یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب معاشرے میں برائیاں پھیلتی ہیں تو پھر ہر طرف سے متاثر ہور ہے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ماں باپ کی طرف سے بھی شکائتیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ خود تو ماں باپ کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں جو بڑی اچھی بات ہے، کرنی چاہئے۔لیکن اپنے بچوں کو اس طرح ان کی ماں کی خدمت کی طرف توجہ نہیں دلا رہے ہوتے جس کی وجہ سے پھر آئندہ نسل بگڑنے کا احتمال ہوتا ہے۔تو آپ بھی ماں باپ کی خدمت کریں اور بچوں کی بھی اس طرح تربیت کریں کہ وہ اپنی ماؤں کی خدمت کرنے والے ہوں۔اور بعض دفعہ جب ایک انسان بچوں کے سامنے اپنی بیوی سے بدسلو کی کر رہا ہو گا، اس کی بے عزتی کر رہا ہوگا تو عزت قائم نہیں رہ سکتی۔اس لئے ماؤں کی عزت قائم کروانے کے لئے اور بچوں کی تربیت کے لئے یہ انتہائی ضروری چیز ہے کہ اپنی بیویوں کی ، اپنے بچوں کی ماؤں کی عزت کریں۔اگر تمام ادعیۃ الرسول یاد نہ ہوں تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کثرت سے دعائیں کیں کہ ہم کو ان میں سے کچھ بھی یاد نہ رہا۔چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یارسول اللہ! آپ نے بہت سی دعائیں کی ہیں مگر ہمیں تو ان دعاؤں میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی دُعا نہ بتا دوں جو ان سب دعاؤں کی جامع ہے۔پھر فرمایا کہ تم لوگ یہ دعا کیا کرو اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَ نَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَ اَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا