مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 33
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 33 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ منافع ملتا ہے۔ملازم پیشہ اور تاجر پیشہ جو لوگ ہیں جن کی ماہوار آمد ہے ان کو تو فکر کے ساتھ ہر ماہ چندوں کی ادا ئیگی کرنی چاہئے اور جماعت میں ہزاروں ایسے ہیں جو اس فکر کے ساتھ ادا ئیگی کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اپنے پیسوں میں برکت کے بیشمار نظارے دیکھتے ہیں۔یہ جو حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ایک زمیندار کو اللہ تعالی اس طرح نوازتا تھا کہ اس کو جب پانی کی ضرورت ہوتی تھی تو با دل کو حکم ہوتا تھا کہ فلاں جگہ برس اور اس کی ضرورت پوری کر۔تو اس زمیندار کی یہی خوبی تھی کہ اپنی آمد میں سے وہ ایک حصہ علیحدہ کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لئے رکھ لیتا تھا۔تو کیا یہ قصہ روایتوں میں اس لئے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے لوگوں سے یا پرانے لوگوں سے ایسا سلوک کرتا تھا اب اس کی یہ قدرت بند ہوگئی ہے!؟ اب اس کو یہ قدرت نہیں رہی ؟ نہیں، بلکہ آج بھی وہ زندہ اور قائم خدا یہ نظارے بے شمار احمد یوں کو دکھاتا ہے۔پس اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی راہ میں کی گئی قربانیوں کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے۔وہ لا محدود قدرتوں کا مالک ہے۔وہ دیتا ہے تو اتنا دیتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن تقویٰ اور نیک نیتی شرط ہے۔شادیوں پر اسراف نہ کریں بعض صاحب حیثیت لوگوں میں بے تحا شا نمود و نمائش اور خرچ کرنے کا شوق ہوتا ہے۔شادیوں پر بے شمار خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔کئی کئی قسم کے کھانے پک رہے ہوتے ہیں جو اکثر ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں سے جب خاص طور پر پاکستان میں جا کر شادیاں کرتے ہیں اگر سادگی سے شادی کریں اور بچت سے کسی غریب کی شادی کے لئے رقم دیں تو وہ اللہ کی رضا حاصل کر رہے ہوں گے۔کھانے اور شادی کارڈ میں سادگی اختیار کریں کھانوں کے علاوہ شادی کارڈوں پر بھی بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔دعوت نامہ تو پاکستان میں ایک روپے میں بھی چھپ جاتا ہے۔یہاں بھی بالکل معمولی سا پانچ سات پیس ( Pens) میں چھپ جاتا ہے۔تو دعوت نامہ ہی بھیجنا ہے کوئی نمائش تو نہیں کرنی۔لیکن بلا وجہ مہنگے مہنگے کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔پوچھو تو کہتے ہیں کہ بڑا سستا چھپا ہے۔صرف پچاس روپے میں۔اب یہ صرف پچاس روپے جو ہیں اگر کارڈ پانچ سو کی تعداد میں چھپوائے گئے ہیں تو یہ پاکستان میں پچیس ہزار روپے بنتے ہیں اور چھپیں ہزار روپے اگرکسی غریب کو