مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 32

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 32 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 2005 ء سے اقتباسات * ضرورت مند خلیفہ وقت سے چندہ کی تخفیف کروائیں۔۔۔پس ہر احمدی کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اپنی مالی قربانیوں کو با قاعدہ رکھے تاکہ ساتھ ساتھ تزکیہ نفس بھی ہوتا رہے۔خلافت ثانیہ کے ابتدا میں جب سے چندہ عام کی ایک شرح مقرر ہو چکی ہے یعنی 1/16 کے لحاظ سے۔تو ہر احمدی کو اس کے مطابق چندہ دینا چاہئے اور چندہ دیتا ہے۔لیکن اگر مالی حالات اجازت نہ دیں تو اسی اجازت کے ماتحت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے چھوٹ مل سکتی ہے لیکن ہمیشہ ہر احمدی کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی تو فیقوں کو جانتا ہے۔اس لئے تقویٰ پر چلتے ہوئے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو اپنے چندوں میں کمی کرنی چاہئے تو بے شک کریں لیکن اس کے لئے جماعت میں طریق ہے کہ خلیفہ وقت سے اجازت لے لیں کہ میرے حالات ایسے ہیں جس کی وجہ سے میں پوری شرح سے چندہ نہیں دے سکتا، ادائیگی نہیں کر سکتا لیکن اپنے آپ کو مکمل طور پر مالی قربانی سے فارغ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ اس طرف توجہ دلائی ہے اور ابتدا میں ہی ( سورۃ بقرہ میں ) متقیوں کی نشانی یہ بتائی ہے کہ نماز پڑھنے والے ، عبادتیں کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں جو متقی ہیں۔پس جب آپ استحکام خلافت اور استحکام جماعت کے لئے دعا مانگتے ہیں اور تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے دعائیں مانگتے ہیں تو ان حکموں پر عمل بھی کرنا ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دعاؤں کا وارث بننے کے لئے دیئے ہیں۔چندہ بقایا نہ رہنے دیں پس ہر احمدی فکر سے اپنے بقایا جات صاف کرنے کی کوشش کرے۔یہ جو چھ مہینے تک بقایا دار کی شرط ہے جماعت کا یہ قاعدہ ہے کہ یہ نہ ہو۔تو یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زمیندارہ کرتے ہیں ، زمیندار ہیں جن کی فصلوں کی آمد چھ مہینے کے بعد ہوتی ہے۔یا جو ایسے کاروباری ہیں جن کو کسی وقفے کے بعد یا کچھ عرصے کے بعد