مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 160
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 160 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جائے کہ اخراجات تو تو فیق اور حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں تو جواب یہی ہوتا ہے کہ صرف ایک کھانا پکایا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ دھوکا نہیں ہے۔اگر توفیق نہیں تو نہیں کرنا چاہئے یہ کام۔پھر قانون کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔یا گھر میں سادہ سا جو بھی توفیق ہو اس کے مطابق اتنے آدمیوں کو بلا کرکھلایا جائے۔شادیوں پر کھانے کا ضیاع نہ کریں اسی طرح بعض صاحب حیثیت جو ہیں وہ اپنی شادیوں پر بلاوجہ کھانوں کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں۔آٹھ دس قسم کے سالن تیار کئے ہوتے ہیں جو کھائے تو جاتے نہیں ، ضائع ہو رہے ہوتے ہیں۔ان میں بہت سے یہاں یورپ سے جانے والے بھی شامل ہیں جو جا کر اپنی شادیاں کرتے ہیں یا اپنے عزیزوں کی شادیاں کرتے ہیں دکھاوے کی خاطر کہ ہم یورپ سے آ رہے ہیں۔اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کھانا پھر بچ جاتا ہے وہ غریبوں میں بھی تقسیم نہیں ہوسکتا کہ چلو کسی غریب کے کام آجائے تب بھی کوئی بات ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ اگر اتنی کشائش ہے کہ اتنے کھانے پکا سکتے ہیں اور خرچ بھی کر سکتے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا تھا غریبوں کی شادیوں پر خرچ کرنے کے لئے چندہ دے دیں۔احساس کمتری کا شکار نہ ہوں پھر عام طور پر غیر معمولی سجاوٹیں کی جاتی ہیں اس کے لئے کوشش ہورہی ہوتی ہے۔بعض لوگ ربوہ میں شادی کرنے والے اس احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔یہاں سے، باہر سے جانے والے بھی اور ربوہ کے رہنے والے بھی شاید ہوں، رہنے والوں کے پاس تو کم ہی پیسہ ہوتا ہے اس لئے وہ تو اس طرح نہیں کرتے ایک آدھ کے علاوہ، کہ شادی کا انتظام کرنے کے لئے جو لوگ موجود ہیں، جو کاروبار کرتے ہیں ان سے کام کروانے کی بجائے یا ان سے کھانے پکوانے کی بجائے ، باہر سے، لا ہور وغیرہ سے منگوائے جاتے ہیں کہ زیادہ اعلیٰ انتظام ہوگا۔ٹھیک ہے ہر ایک کی اپنی اپنی پسند ہے اس کے مطابق کریں۔لیکن کسی احساس کمتری کے تحت یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔احمدی میں اس قسم کا دکھاوے کے لئے احساس کمتری بالکل نہیں ہونا چاہئے بلکہ کسی قسم کا بھی احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔یہی طوق ہیں جو گر دنوں کو جکڑے ہوئے ہیں۔ربوہ کے کاروباری حضرات کے لئے ارشادات دوسرے یہ بھی ہے کہ ربوہ میں جو شادی بیاہ کے انتظامات کا کام کرنے والے ہیں۔ان کا بھی خیال رکھنا