مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 82
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 82 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن جرمنی کے ساتھ میٹنگ * ( 26 اگست 2005 ء) سوا آٹھ بجے شام احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ نے طلبا اور طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ میں چند باتیں آپ سے کروں گا بلکہ بعض سوالات آپ سے پوچھوں گا۔حضور انور نے منتظمین سے دریافت فرمایا کہ طلبا اور طالبات کو جو آپ نے سرٹیفیکیٹ اور میڈلز وغیرہ دینے ہیں اس کے لئے آپ نے کیا معیار بنایا ہے۔یونیورسٹی یا بورڈ جو سرٹیفکیٹ دیتا ہے اس کا کیا معیار ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ O Level اور اس سے اوپر کے Level کے طلبا کو جنہوں نے امتیازی پوزیشن لی ہے سرٹیفکیٹ دینے چاہئیں تا کہ ان میں پڑھائی کا شوق پیدا ہو۔حضور انور نے طالبات سے دریافت فرمایا کہ کتنی ہیں جو Phd ( یا MSc سے آگے تعلیم حاصل کر رہی ہیں اس پر چند بچیوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔پھر حضور انور نے طلباء سے دریافت فرمایا۔کہ کتنے طلباء ایسے ہیں جو MSc سے آگے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس پر طلباء نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے جس پر حضور انور نے فرمایا کہ لڑکوں میں یہ تعدا دزیادہ ہے۔شکر ہے کہ لڑکوں میں پڑھائی کارجحان پیدا ہوا ہے۔یو نیورسٹی لیول میں جہاں لڑکیوں کی کافی تعداد ہے وہاں لڑکوں کی بھی کافی تعداد ہے۔پھر حضور انور نے باری باری طلباء اور طالبات سے بھی یہ دریافت فرمایا کہ کتنی تعداد ایسی ہے جن کو اردو نہیں آتی۔اس پر بھی بعض طلبا اور طالبات نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔حضور انور نے طلباء کو ہدایت فرمائی کہ آپ اپنی سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کو اچھی طرح آرگنائز کریں۔اسی طرح لڑکیوں کی طرف سے لجنہ کی طرف سے ان کو آر گنائز کرنا چاہئے۔حضور انور نے طالبات سے فرمایا۔